’پانڈو سیکٹر میں بھارتی فوج کی پھر فائرنگ‘

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat
پاکستان کی فوج کے مطابق کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر چند دنوں کے سکون کے بعد بھارتی فوج نے پھر سے بلا اشتعال فائرنگ کی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سنیچر کی شام کو بھارتی فوج نے ایل او سی کے پانڈو سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی۔
پاکستانی فوج کے مطابق بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا ہے تاہم بیان میں کسی جانی و مالی نقصان کا نہیں بتایا گیا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والے بیان کے مطابق مظفر آباد کے نزدیک واقع پانڈؤ سیکٹر میں فائرنگ کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ کئی ہفتوں سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جاری ہے جس میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی فورسز کی جانب لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ پر بھارت کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ پر بھارت کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کرتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت میں رواں سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے پر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے دہلی مدعو کیا تھا اور اس تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر صورتحال کشیدہ ہو گئی جو اب تک جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کے تنازعے کو بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر اٹھانے پر بھارت نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے خارجہ امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا، اگر بھارت کو پاکستان سے بات کرنی ہے تو اسے پہل کرنا ہو گی۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا ’وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں سے یہ مذاکرات بحال ہونے جا رہے تھے جنھیں بھارت نے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب انھیں دوبارہ کرنے کے لیے بھی پیش قدمی بھارت ہی کو کرنا ہوگی۔ ہم اس سلسلے میں اب بھارت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2003ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر عام آبادی بھی نشانہ بنی ہے۔







