چین کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں کی تصدیق

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعظم نواز شریف نے تصدیق کی ہے کہ ان کے جمعے کے روز سے شروع ہونے والے دورۂ چین میں دونوں ملکوں کے درمیان بعض بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط ہو جائیں گے۔
پاکستان میں دس ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار اور گوادر بندرگاہ اور اس کو چین سے منسلک کرنے والی شاہراہ کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے چین نے چند ماہ قبل رسمی ہامی بھر لی تھی، البتہ ان معاہدوں پر دستخط چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ پاکستان کے دوران ہونا تھے جو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا۔
<link type="page"><caption> ’چار برس میں 14 بجلی گھر بنائے جائیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/08/140807_china_power_help_pakistan_sa" platform="highweb"/></link>
حکومت پاکستان نے اس سال ستمبر میں اس دورے کے التوا کے بعد دھرنا دینے والی جماعتوں، عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک پر سخت تنقید کی تھی اور انھیں 34 ارب ڈالر کے منصوبوں سے ملک کو محروم کر دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل چین کی جانب سے ان معاہدوں پر دستخط کرنے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
’دو دن پہلے چین کی جانب سے تصدیق موصول ہوئی ہے کہ ان منصوبوں پر دستخط چین ہی میں کیے جا سکتے ہیں۔ یہ منصوبے ملک کی تقدیر بدل دیں گے اسی لیے ہم ان معاہدوں پر جلد از جلد دستخط کر کے انھیں عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔‘
وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکومت ان معاہدوں پر اسلام آباد ہی میں دستخط کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن وزیراعظم پاکستان کے بے حد اصرار پر نواز شریف کے دورۂ چین میں ان معاہدوں پر دستخط پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔
اس سے پہلے چینی حکومت کا اصرار تھا کہ ان معاہدوں پر چینی صدر کے دورہ پاکستان ہی میں دستخط ہوں کیونکہ ان معاہدوں کی عدم موجودگی چینی صدر کے پاکستان جانے کی اہمیت کو کم کر دے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب ان معاہدوں پر دستخط پر رضامندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی صدر کا مستقبل قریب میں دورۂ پاکستان کا امکان کم ہے۔
میاں نواز شریف جمعے کے روز چین جا رہے ہیں جہاں وہ ایشیائی ممالک کی تنظیم ایپک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی درخواست پر اس دورے کو ’دو طرفہ‘ حیثیت دی جا رہی ہے۔
نواز حکومت خاص طور پر نئے بجلی گھروں کی تعمیر اور پہلے سے موجود بجلی گھروں کی توسیع اور مرمت کے معاہدوں پر فوری دستخطوں میں خاص طور پر دلچسپی لے رہی ہے۔
اس کی وجہ نواز شریف نے جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کو خود بتائی۔ انھوں نے کہا: ’10400 میگا واٹ کے یہ منصوبے ساڑھے تین سال میں مکمل ہوں گے۔ ہم انھیں اس سے بھی پہلے مکمل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام کو بجلی کے بحران سے جلد از جلد نجات دلانا ضروری ہے۔‘
یاد رہے کہ نواز حکومت کی مدت میں ساڑھے تین برس ہی رہ گئے ہیں۔ اگر اس دوران ساڑھے دس ہزار میگاواٹ بجلی کے نظام میں شامل ہو جاتے ہیں تو آئندہ انتخابات تک بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت حد تک کم ہو جائے گی۔
بجلی کے حصول کے ان 14 منصوبوں میں سے نصف کے تحت کوئلے سے بجلی بنائی جائے گی۔
ادھر ماہرین ان منصوبوں کے مقررہ مدت، یعنی ساڑھے تین سے چار سال میں مکمل ہونے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔
بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ ان منصوبوں میں سب سے اہم نکتہ ان بجلی گھروں کو ایندھن کی فراہمی ہے:
’چین زیادہ سے زیادہ بجلی گھر بنانے کے لیے مالی یا تکنیکی مدد فراہم کر دے گا لیکن بجلی گھروں سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضروری ایندھن کہاں سے آئے گا، پاکستان میں پہلے ہی گیس اور تیل کی کمی ہے، کوئلہ آئندہ آٹھ دس سال تک دستیاب ہو گا۔‘
ثمر مبارک مند کے مطابق اپنے لیے ضرورت کی بجلی پیدا کرنے کے لیے بجلی گھر تو پاکستان میں پہلے بھی موجود ہیں، اصل مسئلہ ایندھن کا ہے جو نہ پہلے سے نصب شدہ بجلی گھروں کے لیے دستیاب ہے اور نہ نئے بجلی گھروں کے لیے دستیاب ہو گا۔







