گوادر: کشتی کے حادثے میں تارکینِ وطن کی ہلاکت

حادثے کا شکار ہونے والے افراد غیر قانونی طور پر بیرونی ممالک جانا چاہتے تھے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنحادثے کا شکار ہونے والے افراد غیر قانونی طور پر بیرونی ممالک جانا چاہتے تھے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گوادر کے ساحلی علاقے جیونی کے قریب ایک کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں متعدد تارکینِ وطن کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جب کہ اب تک چار افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

ڈوب جانے والے افراد غیر قانونی طور پر ایران اور یورپی ممالک جانا چاہتے تھے۔

کشتی کو حادثہ ایران سے متصل بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے علاقے جیونی کے قریب پیش آیا۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حادثہ ایران کی سمندری حدود میں پیش آیا۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس کشتی میں11 افراد سوار تھے۔ انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ سپیڈ بوٹ والے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کو ایرانی حدود میں لے جاتے ہیں۔

انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے افراد غیر قانونی طور پر بیرونی ممالک جانا چاہتے تھے اور ان کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔ اہلکار نے بتایا کہ اب تک چار لاشوں میں سے صرف ایک کی شناخت ہو سکی ہے۔

جس شخص کی شناخت ہوئی ہے اس کا نام بشیر ہے اور اس کا تعلق مانسہرہ سے بتایا جاتا ہے۔

بلوچستان کی ایران کے ساتھ سرحد نو سو کلومیٹر لمبی ہے۔ انسانی سمگلر زمینی راستوں کے علاوہ ایران جانے کے لیے سمندری راستہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایران میں داخل ہونے کے بعد یورپی ممالک جانے کے خواہش مند افراد کو ترکی پہنچایا جاتا ہے۔

اس پُر خطر سفر کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے مگر تاحال ان راستوں سے ایرانی سمگلنگ کو نہیں روکا جا سکا۔