کراچی: سمندر سے 35 لاشیں برآمد، تلاش کا کام جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے ساحل سے حکام نے 35 لاشیں نکال لی ہیں جبکہ دیگر افراد کی تلاش کے لیے کشتیوں اور غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے۔
کمشنر کراچی نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں سے مزید کام نہیں لیا جائے اور تلاش کا کام کشتیوں اور غوطہ خوروں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی بحریہ نےکراچی کے سی ویو ساحل پر ڈوبنے والے افراد کی لاشوں کی تلاش کا کام جمعے کی صبح دوبارہ شروع کر دیا، جس کے بعد مزید لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق اب بھی کئی افراد لاپتہ ہیں۔
پاکستان بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدھ کی شب ساڑھے 11 بجے ضلعی انتظامیہ نے ان سے مدد کی درخواست کی تھی، جس کے بعد گذشتہ دو روز سے بحریہ لاشوں کی تلاش میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
جمعے کی دوپہر تک 27 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ تاہم ایدھی رضاکار ان لاشوں کی تعداد 28 بتاتے ہیں جو جناح ہپستال منتقل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے جس کی سربراہی ایڈینشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کریں گے، جبکہ متعلقہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی اس کے رکن ہوں گے۔
کمیٹی کو 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ حکومت کو پیش کرنی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا سندھ حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو فی کس دو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سندھ کے چیف سیکریٹری سے رابطہ کرکے واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
تقریبا دو کروڑ آبادی کے شہر کی ایک بڑی تعداد عید یا عام تعطیل کے دنوں میں ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے جہاں ہر سال اس نوعیت کے واقعات پیش آتے ہیں۔
سمندر میں ان دنوں طغیانی کے باعث پانی کی سطح بلند ہوتی ہے، اس لیے گہرے سمندر میں نہانے پر ضلعی حکومت کی جانب سے پابندی عائد ہوتی ہے۔
اس سال بھی یہ پابندی عائد تھی لیکن لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندر میں اتر گئی۔
کمشنر کراچی شعیب صدیقی کا کہنا ہے کہ ساحل سمندر بہت طویل ہے اور انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے باوجود لوگوں کو سمندر میں جانے سے روکنا ممکن نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق اب بھی نصف درجن سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن کے لواحقین ابھی تک سی ویو پر موجود ہیں۔
ایک شخص کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے رشتے داروں کا پتہ نہیں لگ جاتا وہ یہاں سے کس طرح جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کیا پولیس ان کے پیاروں کی لاشیں نکالی گئی اور انھیں آگاہ کرے گی؟
جیسے ہی کوئی لاش سمندر سے نکالی جاتی ہے، پریشان رشتے دار وہاں شناخت کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔
سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں میں کراچی کے علاوہ خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور گلگت کے شہری بھی شامل ہیں۔
جمعے کو غلام الدین اور جنید کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جن کا تعلق گلگت سے تھا۔ ان کے چچا کا کہنا ہے کہ لاشوں کی حالت پانی میں رہنے کی وجہ سے خراب ہوتی جا رہی ہے وہ ان لاشوں کو اپنے گاؤں گلگت لے جانا چاہتے ہیں اس سلسلے میں حکومت کو مدد فراہم کرنی چاہیے۔
دوسری جانب ہلاکتوں کے بعد ساحل سمندر جانے والے راستوں کو پولیس نے بند کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پولیس کو لوگوں کو سمندر میں جانے سے روکنے کی ہدایت کی تھی لیکن اس کے باوجود لوگ اس کو نظر انداز کرکے سمندر کی طرف نکل آئے۔







