رواں سال چار ارب روپے کی وصولیاں

،تصویر کا ذریعہNAB
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے رواں سال کے دوران چار ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں ان میں مضاربہ سکینڈل سرفہرست ہے جس میں ہزاروں عام افراد کو لوٹنے کے الزام میں اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کے قبضے سے دو ارب روپے زائد مالیت کی نقدی اور دیگر اشیا قبضے میں لی گئی ہیں اس کہ علاوہ چھ ہزار کنال اراضی بھی واگزار کروالی گئی ہے۔
گذشتہ برس اسی عرصے کے دوران ’پلی بارگین ‘ یعنی سزا سے بچنے کے لیے الزام قبول کرتے ہوئے رقم کی ادائیدگی اور وصولیوں کی مد میں تین ارب نوے کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کروائے گئے تھے۔
نیب کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیب کو اس عرصے کے دوران 19816 شکایات موصول ہوئیں جن پر767 انکوائریاں شروع کی گئیں اور 276 مقدمات کی تحقیقات کی گئیں جن کی بنیاد پر 152 ریفرنسں احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے۔
ریفرنس جو مختلف احتساب عدالتوں میں بھیجے گئے اُن میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں کے ٹھیکیوں میں بےضابطگیوں کے علاوہ اپنے داماد کو قواعد وضوابط سے ہٹ کر عالمی بینک میں تعینات کروانے کے ریفرنس شامل ہیں۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کے بھائی اور ایمپلائز اولڈ اییج بینیفٹس انسٹیٹوشن کے سربراہ ظفر گوندل کو بھی دھاندلی اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے علاوہ قواعد و ضوابظ کی خلاف ورزی کرنے پر نہ صرف اُنھیں حراست میں لیا گیا بلکہ اُن کے خلف ریفرنس بھی دائر کیا گیا ہے۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ اس ادارے کو موصول ہونے والی شکایات میں بتدریج اضافہ بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام میں نیب پر اعتماد بحال ہوا ہے اور یہ ادارہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اینٹی کرپشن آرگنائزیشن کے طور پر ابھرا ہے۔ نیب کے پراسیکیوشن ڈویژن کے نئے لاء افسروں کی تعیناتی کی وجہ سے ادارے کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا گیاہے ۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیشی افسران کو مقدمات کی تفتیش کرنے سے متعلق تربیت دی گئی ہے جس میں آپریشنل میتھڈولوجی (کام کرنے کا طریقہ کار)، پریونشن (انسداد)، انفورسمنٹ ( قانون کا نفاذ) اور پراسیکیوشن (استغاثہ) کوجدید اصولوں پر استوار کیا گیا ہے۔ نیب حکام کے مطابق اسی سلسلے میں مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اورسکولوں میں چار ہزار کردار سازی (کریکٹرز بلڈرز) سوسائٹیوں کے قیام کو بھی عمل میں لایا گیا۔
قمر زمان چوہدری کو وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے نیب کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







