خیبر ایجنسی میں پانچ شدت پسند اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک

خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے کے بہت سے افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے کے بہت سے افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں پانچ شدت پسند اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو ہوگئے ہیں۔

جبکہ ایک مکان پر مارٹر گولہ گرا ہے جس میں ایک بچے اور ایک خاتون کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

تحصیل باڑہ میں اکا خیل کے علاقے میں نیم شب کے وقت شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا جس میں ایک اہلکار کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس میں پانچ شدت پسند ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے جہاں بعض مقامات پر اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا ہے۔

خیبر ایجنسی میں مارٹر کے گولے گرنے سے گذشتہ دنوں کئی افراد ہلاک ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں مارٹر کے گولے گرنے سے گذشتہ دنوں کئی افراد ہلاک ہو گئے ہیں

خیبر ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن خیبر ون کے نتیجے میں اب تک بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ سپاہ اور اکا خیل سے بڑی تعداد میں لوگ پشاور پہنچے ہیں۔

دوسری جانب ایسی طلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آج صبح ایک مکان پر مارٹر گولہ گرا ہے جس میں ایک خاتون اور ایک بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

چند روز پہلے بھی سپاہ کے علاقے میں مارٹر گولہ گرنے سے دو افراد ہلک ہوگئے تھے۔ سپاہ اور عالم گدر سے نقل مکانی کرنے والے افراد نے بتایا کہ علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

باڑہ سے پشاور آنے والے لوگوں کے قریب بھی مارٹر گولے گرے تھے لیکن انھوں نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔