سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بِل 2014 منظور

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بِل 2014 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے جس کے تحت حلقہ بندیوں کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیے گئے ہیں جو اس سے قبل حکومت سندھ کے پاس تھے۔
اس بل کے مطابق یونین کونسل، میونسپل کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی سمیت تمام حلقوں کی حد بندی کا اختیار صوبائی حکومت سے لے کر الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا ہے۔
ترمیم کے تحت انتخابی ضابطے کی خلاف کی صورت میں الیکشن کمیشن کسی بھی منتخب رکن کی رکنیت ختم کرنے اور آئندہ چار سال کے لیے نااہل قرار دینے کا مجاز ہوگا۔
پیر کو اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرِ صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس کے دوران وزیر برائے پارلیمانی امور سکندر میندرو نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پیش کیا۔
اس بِل میں 9 ترامیم کی تجاویز دی گئی تھیں، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
متحدہ قومی موومنٹ نے اسمبلی کے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس بل کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
اس سے پہلے پیر کی صبح ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کے اراکین نے پیپلزپارٹی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کی جس کے بعد ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔
اس سے پہلے پیر صبح ایم کیوایم کےدو صوبائی وزرا نے گذشتہ رات اپنی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اپنے استعفے گورنر سندھ کو ارسال کردیے جبکہ تینوں مشیروں نے اپنے استعفے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بھیج دیے۔ جس کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو حزبِ اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کی درخواست بھی باضابطہ طور پر جمع کروا دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے دوران سندھ اسمبلی میں مقامی حکومت کا ترمیمی آرڈینینس منظور کرلیا گیا۔
ادھر پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر منظور وسان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی ناراضی کی وجہ بلدیاتی نظام ہے۔ ایم کیو ایم صبح ناراض ہوکر شام کو مان جاتی ہے اس لیے کل تک انتظار کیا جانا چاہیے۔
جبکہ ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار ال حسن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت حکومت کی بدعنوانی میں حصے دار نہیں بن سکتی اسی لیے حکومت سے علیحدہ ہوگئی۔







