پاکستان ایران سرحد پر کشیدگی پر پاکستانی سفیر کی طلبی

،تصویر کا ذریعہISNA
ایران کی وزارتِ خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر فائرنگ کے واقعات پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستانی سفیر کو طلب کیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اِرنا‘ نے ایرانی وزارت خارجہ کے دفتر کے حوالے سے بتایا ہے پاکستان کے سفیر نور محمد جدمانی کو سنیچر 18 اکتوبر کی شام ’دونوں ممالک کی درمیانی سرحد پر ہونے والے ان واقعات کی وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا جن کے نتیجے میں ایران کے کئی سرحدی محافظ ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔‘
وزارت خارجہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا کے امور کے سربراہ رسول اسلامی نے پاکستانی سفیر سے کہا کہ ’ ہم یہ بات قبول نہیں کر سکتے کہ پاکستان سے دہشتگردوں اور ڈاکوؤں کا ایک گروہ ہمارے علاقے میں گھس آئے اور ہمارے سرحدی محافظوں کو فائرنگ کر کے شہید کر دے۔‘
تفصیلات کے مطابق سینیئر ایرانی افسر نے پاکستانی سفیر سے ’یہ مطالبہ بھی کیا اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کا کوئی واقع نہ ہو۔‘
رسول اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ’اس قسم کے مسائل سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی فضا کو خراب نہیں ہونے دینا چاہیے، اس لیے دونوں ممالک کے افسران کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مسائل کا کوئی حل نکالیں اور دونوں ممالک کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنائیں۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران کی سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔
ایف سی کے ایک پریس ریلیز کے مطابق ایرانی بارڈر فورس کی جانب سے فائرنگ ضلع کچ کے سرحدی علاقے چوکاب میں کی گئی تھی۔
بیان میں مذید کہا گیا تھا کہ علاقے میں ایف سی کی ایک پیٹرولنگ پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ اس دوران دو موٹرسائیکلوں پر سوار مشتبہ شر پسند دکھائی دیے۔ فرنٹیئرکور کے اہلکاروں نے مشتبہ شر پسندوں کا تعاقب کیا۔ جونہی ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی بارڈر پلر 206 کے قریب پہنچی تو ایران کی سکیورٹی فورسز نے ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ چھ سے سات گھنٹے تک جاری رہا تھا۔
ایف سی نے اپنی پریس ریلیز میں مزید کہا تھا کہ ایران کی سکیورٹی فورسز کی بلا جواز سرحدی خلاف ورزیاں ضلع چاغی میں بھی جاری ہیں۔
آئی جی ایف سی میجرجنرل محمد اعجاز شاہد نے ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں ایران کی جانب سے کسی بھی بلاجواز اور غیر قانونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔
تقریباّ دس روز قبل ایران کے مشرقی صوبے سیستان کے علاقے میں چار ایرانی گارڈز کو ایک نامعلوم حلمہ آور نے ہلاک کر دیا تھا۔







