اعلیٰ سول و فوجی قیادت کا سکیورٹی صورتِ حال پر غور

،تصویر کا ذریعہpid
پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آپریشن ضربِ عضب اور لائن آف کنٹرول پر کشیدہ صورتِ حال پر غور کیا گیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا یہ چوتھا اجلاس وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب، بھارت کے ساتھ کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدہ صورتِ حال پر غور کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس کے آغاز پر شرکا سے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ آج کے اجلاس میں آپریشن ضربِ عضب اور لائن آف کنٹرول کی صورتِ حال پر غور ہو گا۔
انھوں نے شرکا کو اپنے دورۂ شمالی وزیرستان کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کامیابی سے جاری ہے اور پاکستانی فوج بہادری سے ’دہشت گردی‘ کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دورۂ میران شاہ کے دوران آپریشن ضربِ عضب میں مصروف افسروں اور جوانوں سے ملاقات ایک متاثر کن تجربہ تھا۔
وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
سینیئر عسکری حکام نے سکیورٹی صورتِ حال کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیرِ اعظم نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، امورِ خارجہ کے لیے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور بحریہ کے سربراہ محمد ذکااللہ سے الگ الگ ملاقاتوں میں قومی سلامتی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیرِ اعظم کے امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام، فضائیہ کے سربراہ طارق رفیق بٹ، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی، وزیرِ اطلاعات پرویز رشید، سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری داخلہ اور بحریہ کے سربراہ بھی شریک ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ دنوں میں فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو افراد کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ 11 پاکستانی ہیں۔
فائرنگ کی ان واقعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ادھر شمالی وزیرِ ستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب جاری ہے اور وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کے ہمراہ جمعرات کو میران شاہ کا دورہ کیا تھا۔
وہاں اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کو پاکستان کی بقا کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس ’جنگ‘ کے بعد پاکستان کے ایک پرامن ملک بن جائے گا۔







