’بلاول کے بیان پر پیپلز پارٹی سے وضاحت مانگیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ جماعت کے قائد الطاف حسین کے بارے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان ان کی جماعت کی پالیسی کا غماز ہے اور اس بیان نے حکومت سے اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کراچی میں پیر کی شام ہنگامہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کے بیان کا آئینی، قانونی اور سیاسی زاویوں سے جائزہ لیا جارہا ہے،
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو ہی عید کے موقع پر جماعت کے ہلاک ہونے والے کارکنوں کے ورثا سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنے نامعلوم افراد کو سنبھالیں اور اگر ان کے کسی کارکن پر آنچ بھی آئی تو لندن پولیس کیا وہ خود ان کا جینا حرام کردیں گے ۔
بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر ایم کیو ایم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا، جس میں بیان کو نفرت انگیز اور تعصب پرستانہ قرار دیا گیا۔
حیدر عباس رضوی نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بیان دیکھ کر پڑھ رہے تھے اور وہ اسے پیپلز پارٹی کی پالیسی سمجھتے ہیں جو الطاف حسین کے خلاف دھمکی کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس بیان میں جو جارحانہ لہجہ اور الفاظ بلاول زرداری نے استعمال کیے ہیں، اس سے ان کے دل میں چھپے جارحانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اٹھارہ اکتوبر کو جلسہ کرنے جا رہی ہے اس زبان کا استعمال معنی خیز ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’پیپلز پارٹی جو ملک سے سکڑ کر دیہی سندھ تک محدود ہوگئی ہے جس کا ذکر خود بلاول کرتے آئے ہیں، ایسا نہ ہو کہ دیہی سندھ میں بھی اس کی وہ ہی صورتحال ہو جو پنجاب میں ہو چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ وہ ’بلاول کی تقریر کا جواب آصف علی زرداری سے بھی چاہتے ہیں کہ کیا یہ اسی پالیسی کا سلسلہ ہے جو ذوالفقار علی مرزا کی صورت میں اختیار کی گئی، جب ایم کیو ایم کے کارکنوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا یہ سازش کا کوئی نیا جال بچھایا گیا ہے۔‘
حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ پیپلز امن کمیٹی کے ماسٹر مائنڈ بھی اس وقت لندن میں ہیں: ’اس کمیٹی کے ملزمان نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے گلے کاٹے اور مار کر لاشیں پھینکیں۔ ان کا لندن میں موجود ہونا بھی قابل تشویش ہے جس سے میٹروپولیٹن پولیس کو آگاہ کیا جائے گا۔‘
پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب سے الطاف حسین نے نئے صوبوں کی بات کی ہے، جاگیرداروں اور وڈیروں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے لیکن انتظامی صوبے پاکستان کا مقدر ہیں، دھمکی کی سیاست اور جارحیت ان کو روک نہیں سکتی۔
حیدر عباس رضوی نے بتایا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بلوا کر بلاول کے بیان پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے وضاحت طلب کی جائے گی کیونکہ اس بیان نے حکومت سے اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان اس وقت قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے سالانہ پروگرام میں مصروف ہیں اور اب تین روز بعد کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں حکومت سے اتحاد بھی زیر غور آئےگا۔







