’حرکت المجاہدین کے بانی فضل الرحمان خلیل دہشت گرد قرار‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ نے شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین کے بانی اور جہادی رہنما فضل الرحمان خلیل سمیت تین پاکستانی شہریوں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے لاہور میں قائم دو نجی کمپنیوں پر شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کی مالی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
<link type="page"><caption> فضل الرحمان خلیل کون ہیں؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110624_fazal_khalil_profile_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’مجھے ایبٹ آباد جانا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110624_fazal_khalil_profile_ra" platform="highweb"/></link>
فضل الرحمان خلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ان میں سے ایک الزام بھی سچ پر مبنی نہیں اور وہ اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔‘
امریکہ کی جانب سے ان پابندیوں کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر براک اوباما نے لشکرِ طیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق کیا ہے۔
محکمۂ خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان خلیل کی حرکت المجاہدین اور لشکرِ طیبہ تشدد پسند دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو دہشت گردوں کی تربیت اور ان کی سرگرمیوں کی سرپرستی اور القاعدہ سمیت دیگر انتہا پسند گروہوں کی مدد میں ملوث ہیں۔
دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے معاملات سے منسلک امریکی محکمے کے افسر ڈیوڈ ایس کوہن کا کہنا ہے کہ ’آج کی پابندیاں ان دہشت گرد تنظیموں کی ان کے مالی نیٹ ورکس تک رسائی کی کوششوں کو درہم برہم کر دیں گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حرکت المجاہدین کو انصار الامہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کے بانی فضل الرحمان خلیل کے بارے میں امریکی حکام نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کو 1997 میں ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا اور وہ خود حرکت المجاہدین کے امور کی انجام دہی میں براہِ راست ملوث ہیں اور تنظیم کے تمام اہم مالی فیصلے وہی کرتے ہیں۔
بیان میں فضل الرحمان خلیل کو القاعدہ کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے قبل ان کے فضل الرحمان خلیل سے قریبی روابط تھے۔
فضل الرحمان خلیل کے علاوہ دہشت گرد قرار دیے جانے والے پاکستانی شہریوں میں محمد نعیم شیخ اور عمیر نعیم شیخ شامل ہیں اور امریکہ کا الزام ہے کہ یہ دونوں افراد لشکر طیبہ کے اہم مالی معاون ہیں۔
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ان دونوں افراد کی زیر ملکیت <link type="page"><caption> دو کمپنیوں کو بھی دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل</caption><url href="http://www.treasury.gov/press-center/press-releases/Pages/jl2653.aspx" platform="highweb"/></link> کیا گیا ہے۔
ان کمپنیوں میں نعیم شیخ کی لاہور میں قائم ٹیکسٹائل، چمڑے اور جوتے بنانے والی عبدالحمید شہاب الدین کمپنی اور عمیر نعیم شیخ کی کیمیکل مصنوعات بنانے والی کمپنی نِیا انٹرنیشنل شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے بعد فضل الرحمن خلیل سمیت ان تینوں افراد اور کمپنیوں کے امریکہ یا امریکی شہریوں کے کنٹرول میں موجود تمام اثاثے منجمد ہوگئے ہیں اور اب امریکی شہری ان کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کر سکیں گے۔
امریکی حکام لشکر طیبہ اور اس سے تعلق رکھنے والے 27 افراد اور تین اداروں کو پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں جبکہ لشکر طیبہ کو اقوام متحدہ نے بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
امریکہ اور بھارت لشکر طیبہ کو بھارت میں سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
منگل کو واشنگٹن میں امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات میں لشکرِ طیبہ، جیش محمد، ڈی کمپنی اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گرد اور جرائم پیشہ گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ان کی مالی اور اخلاقی حمایت ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق بھی کیا ہے۔







