دھرنے پاکستانی ویب کے لیے رحمت

پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے سیاسی موضوعات چھائے رہے جن میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے آزادی اور انقلاب مارچ کے حوالے سے گہما گہمی رہی۔
پاکستانی ٹوئٹر اور فیس بک پر احتجاجی موڈ ابھی تک حاوی ہے اور اس پر روزانہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے سپانسر شدہ ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے گذشتہ روز لاہور میں جبکہ آج سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گو نواز گو کا نعرہ میاں صاحبان کے پیچھے لگ گیا ہے۔‘
یہ نعرہ گذشتہ کئی دنوں سے پاکستان ٹوئٹر پر حاوی ہے جس پر اس Go Nawaz Go کے ہیش ٹیگ کے ساتھ گذشتہ 30 دنوں میں 824,317 ٹویٹس کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے بھی ردِ عمل شدید ہے مگر وہ پی ٹی آئی جتنا اتنا منظم نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا پر آواز مریم نواز کی صورت میں نظر آتی ہے مگر کئی دیگر وزرا اور رہنما بھی ان دنوں خاصے سرگرم ہیں۔
وفاقی وزرا خرم دستگیر اور احسن اقبال تو کسی حد تک نظر آ ہی جاتے تھے مگر اب خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران جہاں پاکستانی سوشل میڈیا پر ترقی کے رجحانات دیکھے گئے اور سیاسی شوز نے پہلی بار تفریحی پروگراموں کو پیچھے چھوڑا، وہیں اخباری ویب سائٹس نے بھی اپنی ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ٹریفک میں موبائل فون کے ذریعے رسائی حاصل کرنے والے صارفین کی بڑی تعداد تھی جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تھری جی ٹیکنالوجی نے صارفین کے ایک طبقے کو معلومات تک رسائی کے لیے سہولت فراہم کی ہے۔







