’نواز شریف امین نہیں رہے:‘ درخواست سماعت کےلیے منظور

سپریم کورٹ کے رجسٹرار نےدرخواست لینے سے انکار کیا تھا لیکن چیف جسٹس نے اسے عدالت میں سننے کا فیصلہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کے رجسٹرار نےدرخواست لینے سے انکار کیا تھا لیکن چیف جسٹس نے اسے عدالت میں سننے کا فیصلہ کیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ایک درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف اب صادق اور امین کی آئین میں دی گئی تشریح پر پورا نہیں اترتے اس لیے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں یہ درخواست تحریک انصاف کے ایک عہدیدار کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کا بینچ 29 ستمبر کو وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن کے قابل سماعت ہونے سے متعلق ابتدائی سماعت کرے گا۔

یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں متعدد افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس مں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے ختم کرنے کے لیے فوج کو ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرنے سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اُترتے کیونکہ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوج کے ترجمان کی طرف سے بیان سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو دھرنے ختم کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ حکومت نے فوج کو نہ تو مذاکرات کے لیے کوئی ٹاسک دیا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت نے ایسا کوئی کردار حکومت سے مانگا ہے۔

تاہم وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے ذمے ہے اور اگر وہ اُنھیں کردار ادا کرنے کے لیے نہ بھی کہتے تو پھر بھی فوج نے دھرنا دینے والی جماعتوں سے بات چیت کرنی تھی۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اس درخواست پر اعتراض لگا کر اسے ناقابل سماعت قرار دیا تھا جس میں وزیر اعظم کو فریق بنایا گیا تھا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت چیف جسٹس ناصر الملک کے چیمبر میں ہوئی۔

اس سماعت میں عدالت نے رجسٹرار کی طرف سے لگائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا اور اس درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے اس بیان پر ان کی اہلیت سے متعلق درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر کو عدالتوں میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔