اسلام آباد کے احتجاجی دھرنوں کا مقبول نعرہ ’گو نواز گو‘ بنتا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہوئے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اسی وجہ سے ان دھرنوں میں’ گو نواز گو‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور یہ نعرے شاہراہ دستور پر موجود مظاہرین نے جگہ جگہ تحریر بھی کر رکھے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے چند روز پہلے اپنی تقریر میں’گو نواز گو‘ کے نعرے کرنسی نوٹوں پر بھی تحریر کرنے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم جب سٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا کہ کرنسی نوٹ پر کسی قسم کی تحریر سے نوٹ قابل استعمال نہیں رہ جاتا، اس کے بعد طاہر القادری نے اعلان واپس لیتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گو نواز گو کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے مظاہرین میں ایک بڑی تعداد بچوں کی بھی ہے جو فارغ اوقات میں پارلیمان ہاؤس کے سامنے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ اکتیس اگست کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایسے بچے بھی زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے تھے اور ان سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے قائد طاہر القادری کے کہنے پر تعلیم چھوڑ کر اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ان بچوں نے گذشتہ دنوں اپنے قائد کے حکم پر پارلیمان ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ ان میں سے بعض نے کتبے اٹھا رکھے تھے’ میں طالب علم ہوں میرا مستقبل کیا ہو گا۔‘
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کا ریڈ زون جہاں کبھی عام شہری کے لیے جانا انتہائی مشکل کام تھا اب ایک ایسی خیمہ بستی کا ماحول پیش کرتا ہے جہاں آہستہ آہستہ زندگی کی تمام سہولتیں میسر ہونا شروع ہو گئی ہیں اور یہاں دن کے وقت ہر کسی کے پاس فراغت ہی فراغت ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس علاقے میں اب آپ کو دن کے اوقات میں کھانے پینے کے سٹال، کرکٹ کھیلتے بچے، نہاتے ہوئے افراد اور کپڑے دھوتی خواتین نظر آتی ہیں۔ مختلف ٹولیوں میں بیٹھے لوگ نظر آتے ہیں اور بعض کو شہر کی سیر کو نکل جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہاں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی جانب سے مظاہرین کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ برطانوی خبر رساں روئٹرز اور ڈان نیوز کی رپورٹس کے مطابق طاہر القادری کے دھرنے میں مزدور یومیہ اجرت پر لائے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ دھرنوں میں معاوضے کے علاوہ مفت کھانا بھی ملتا ہے۔ اس طرح کی قطاریں کھانے کے اوقات میں اسلام آباد کے پشاور موڑ پر نظر آتی تھیں لیکن وہاں اب لوگ کم نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشاہراہ دستور پر دن کے وقت کچھ زیادہ کرنے کو نہیں ہوتا ہے لیکن شام میں یہاں رونق بڑھ جاتی ہے جس میں دونوں دھرنوں کے قائد بھی اپنے اپنے کنٹینرز کے اوپر آ جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے تقاریر کرتے ہیں لیکن دونوں رہنما اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کا ایئر ٹائم خراب نہ کریں یعنی تقاریر کی لائیو میڈیا کوریج۔