پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا الرٹ

مون سون کا سلسلہ عموماً ستمبر کے وسط تک ختم ہو جاتا ہے تاہم کبھی کبھار یہ ستمبر کے آخر تک چلا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمون سون کا سلسلہ عموماً ستمبر کے وسط تک ختم ہو جاتا ہے تاہم کبھی کبھار یہ ستمبر کے آخر تک چلا جاتا ہے
    • مصنف, تابندہ کوکب گیلانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے صوبہ پنجاب کے دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشوں کا ایک نظام بھارت سے ہوتا ہوا پنجاب کے مشرقی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض خان نے بتایا ہے کہ اگر بارشوں کا یہ سلسلہ پاکستان کے علاقوں تک آ جاتا ہے تو یہ تیز ہواؤں اور بارشوں کا سبب بنے گا اور اس کی شدت چناب اور راوی میں اونچے درجے کہ سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کے زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ بارشیں بھارت کی سرحد کے اندر اِن دریاؤں میں طغیانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بارشوں کے سلسلے کا رخ بدلے جانے کا امکان بھی ہے تاہم فی الحال رجحان یہی بتاتا ہے کہ بارشیں اِس رخ ہی آ رہی ہیں۔

سیلاب آنے کی صورت میں سیالکوٹ، گجرانوالہ ڈویژن، وزیر آباد، منڈی بہاؤالدین کے علاوہ پنجاب کے نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

بھارت کے محکمۂ موسمیات سے سیلاب یا موسم کی صورتحال پر معلومات کے تبادلے کے حوالے سے محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ’ بنگال سے آنے والا بارشوں کا یہ سلسلہ راجستھان کے علاقوں میں ہے اور فی الحال ایسی کوئی معلومات نہیں ملیں۔‘

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اگر دریائے چناب میں پانی 75 ہزار کیوسک تک چلا جاتا ہے تو بھارتی حکام وہ پاکستانی حکام کو مطلع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے دریاؤں کے لیے بھی حدیں مقرر کی گئی ہیں۔

محکمۂ موسیمات کے مطابق ابھی سیلاب کی وارننگ نہیں بلکہ الرٹ جاری کیا گیا ہے تاہم آئندہ 24 سے 36گھنٹوں میں سیلاب کے بارے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض خان کے مطابق مون سون کا سلسلہ عموماً ستمبر کے وسط تک ختم ہو جاتا ہے تاہم کبھی کبھار یہ ستمبر کے آخر تک چلا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ ایل نینو کے اثرات کی وجہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں بارشیں معمول سے بہت کم ہوئی ہیں۔