پاکستان میں نو برس بعد گرمی کی شدید ترین لہر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, تابندہ کوکب گیلانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری گرمی کی حالیہ لہر غیر معمولی طور پر طویل ہے جس سے نہ صرف کئی علاقوں میں فصلوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے بلکہ گرمی اور لُو کے باعث ہلاکتیں بھی ہوئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ماہر محمد حنیف نے بتایا ہے کہ پاکستان کے جغرافیائی اور موسمیاتی حالات میں گرمی کی کوئی بھی لہر جنوبی علاقوں سندھ اور بلوچستان میں سات جبکہ شمالی علاقوں، اسلام آباد، پنجاب، اور خیبر پختونخوا میں کم سے کم پانچ روز تک رہتی ہے۔
’پانچ سے سات روز کے بعد سمندر سے ہوائیں چلتی ہیں، آندھی آتی ہے بارش ہوتی ہے اور گرمی کی لہر کم ہو جاتی ہے، لیکن حالیہ گرمی کی جاری لہر کو 16 روز ہوچکے ہیں اور سنہ 2005 کے بعد یہ گرمی کی طویل ترین لہر ہے۔‘
موسم کی اس تبدیلی کی وجہ بتاتے ہوئے محمد حنیف کا کہنا تھا: ’پانچ سے سات روز کی گرمی کے باعث ہوا کا دباؤ اس قدر کم ہو جاتا ہے کہ سمندر کی جانب سے نم ہواؤں کو پاکستان میں داخل ہونے کا راستہ مل جاتا ہے جو آندھی اور بارش کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن گذشتہ ہفتے بحیرۂ عرب میں آنے والے سمندری طوفان نے ان نم ہواؤں کا راستہ روک لیا جس کی وجہ سے گرمی کی لہر طویل ہوگئی۔‘
ایسا ہی کچھ سنہ 2005 میں ہوا تھا جب گرمی کی لہر کے نویں روز کراچی کے ساحل کے قریب سمندر میں طوفان کے باعث نم ہوائیں پاکستان کے میدانی علاقوں میں داخل نہیں ہو پائی تھیں۔
تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ گرمی کی یہ لہر ختم ہونے کو ہے۔ جمعرات کو بھی بعض بالائی علاقوں میں ’پرِی مون سُون‘ یعنی مون سون سے پہلے کی بارش ہوئی ہے اور آنے والے دو روز میں بالائی پنجاب اور کشمیر کے علاقوں میں مزید بارشوں کے بعد یہ لہر ختم ہو جائے گی تاہم جنوبی علاقوں میں چار سے پانچ روز میں یہ لہر ختم ہونے کا امکان ہے۔
گو کہ پاکستان بھر میں گرمی کا زور مون سون کے باقاعدہ آغاز پر ہی ٹوٹے گا، تاہم اب ایسی طویل اور شدید گرمی کی مزید کسی لہر کا اس سال کوئی امکان نہیں ہے۔
محمکہ موسمیات کے مطابق ان کا قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ساتھی قریبی تعاون قائم ہے۔ سیلاب اور خشک سالی کے حوالے سے معلومات کا باقاعدگی سے تبادلہ ہوتا رہتا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری

این ڈی ایم اے کے ممبر آپریشنز بریگیڈیئر کامران ضیا کا کہنا ہے کہ رواں برس ایل نینیو اثرات کے پیش نظر صوبائی اور قومی سطح پر الگ الگ منصوبے تشکیل دیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’صوبوں، کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے بالائی علاقوں کے لیے منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ 30 جون اور یکم جولائی کو دو روزہ کانفرنس میں حتمی منصوبے پیش کیے جائیں گے۔ ان کی روشنی میں مون سون کے لیے منصوبہ حکومت سے منظور کروایا جائے گا۔‘
بریگیڈیئر کامران ضیا کا کہنا تھا کہ ’محکمۂ موسیمات سے ہمیں موسمیاتی پیش گوئی موصول ہو چکی ہے جس کی بنا پر منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔ اب کی بار جنوبی علاقوں میں معمول سے 30 فیصد کم بارش کا امکان ہے۔ اس لیے خشک سالی کے لیے بھی تیاری کی جارہی ہے۔‘
ان کے بقول کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور تیاری کی جا رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مئی کے مہینے کے نسبتاً ٹھنڈا ہونے باعث گلیشیروں کے پگھلنے میں تاخیر ہوئی ہے اس لیے مون سون اور برفانی تودوں کے پگھلنے کے اوقات کے یکساں ہونے کے باعث سیلاب کے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بریگیڈیئر کامران ضیا کے بقول تمام صوبوں میں ضلعی سطح پر منصوبے بنائے گئے ہیں کہ کِس طرح اور کِس سطح کے سیلاب میں کن کن علاقوں میں اقدامات کرنے ہیں۔
’لوگوں کو علاقوں سے منتقل کرنے کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، حتٰی کہ سیلاب کی صورت میں امدادی خیمہ بستیوں کے لیہ کے مقام کا تعین کیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پہلے تنبیہ جاری کی جائے گی اور ان لوگوں کو علاقے سے منتقل کر دیا جائے گا۔
بریگیڈیئر کامران ضیا کے بقول ان کے لیے شہری علاقوں میں آنے والے کسی ممکنہ سیلاب کی صوت میں شہری حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ شہری حکومتوں نے نکاسی کے نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
برگیڈیئر کامران ضیا کا کہنا تھا کہ خشک سالی کے خطرے کے پیشِ نظر تھر، چولستان اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے: ’ہم چار چیزوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ صحت، پانی، خوراک کی فراہمی اور مویشیوں کے لیے اقدامات شامل ہیں۔‘
بریگیڈیئر کامران ضیا کا کہنا تھا کہ ’ہم پانی کی سطح پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تمام اقدامات پر عمل درآمد پہلے سے جاری ہے۔ ہم ایل نینیو کے آنے کا انتظار نہیں کر رہے کہ خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو اور اس کے بعد ہم اس پر ردِ عمل دیں۔ ‘







