لعل شہباز کے عرس میں گرمی کی وجہ سے 43 افراد ہلاک

ایدھی مرکز کے انچارج نے کہا کہ عرس کے آغاز سے ایک روز قبل 14 افراد جان بحق ہو ئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایدھی مرکز کے انچارج نے کہا کہ عرس کے آغاز سے ایک روز قبل 14 افراد جان بحق ہو ئے تھے
    • مصنف, علی حسن
    • عہدہ, حیدرآباد

صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں قلندر لعل شہباز کے عرس کے پہلے دو دنوں میں بدھ کی شام تک شدید گرمی کی وجہ سے 43 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو اور دادو ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں درجۂ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ صبح دس بجے سے گرمی بڑھتی جاتی ہے جو مغرب تک برقرار رہتی ہے۔

ایدھی مرکز حیدرآباد کے انچارج محمد معراج عرس کے موقع پر سیہون میں ایدھی کیمپ کی نگرانی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عرس کے آغاز سے ایک روز قبل 14 افراد جان بحق ہو گئے تھے۔ ان میں چار ایسے جوان افراد بھی شامل تھے جو نہر میں نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد 17 اور 18 جون کو شدید گرمی اور لو کے نتیجے میں مزید افراد ہلاک ہوئے جس کی وجہ سے مرنے والوں کی کل تعداد بدھ کی سہ پہر تک 47 ہو گئی۔

ڈپٹی کمشنر اور عرس کمیٹی کے سربراہ ادیب سہیل بچانی نے تصدیق کی کہ یہ اموات گرمی کی شدت کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

محمد معراج نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کراچی اور ٹنڈو آدم کے چار افراد کے علاوہ اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے۔ ایسے تمام افراد جن کی شناخت ہو گئی ہے ان کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں 14 افراد ایسے تھے جو لاوارث نکلے۔ معراج نے شکایت کی کہ لاوارثوں کو دفنانے کے لیے ایدھی کے رضاکاروں کو سخت مشکل کا سامنا ہے کیوں کہ مقامی قبرستان میں لوگ تدفین کی اجازت نہیں دیتے۔

انھوں نے بتایا کہ ایدھی مرکز نے ضلعی انتظامیہ سے قبرستان کے لیے زمین کا مطالبہ کیا تھا جس پر ابھی تک غور نہیں کیا گیا۔

سیہون میں موجود ہسپتال میں بھی سہولتیں محدود ہیں۔ معراج کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مردہ خانے یا سرد خانہ کی کوئی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے لاشیں خراب ہو گئی ہیں اور علاقے میں تعفن تک پھیل گیا ہے۔

اس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مردہ خانے کی عدم موجودگی کے بارے میں وہ کچھ اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ اس کا قیام تو کسی منصوبے کے تحت ہوتا ہے جس کا انھیں کوئی علم نہیں ہے۔

لعل شہباز قلندر کا تین روزہ عرس جمعرات کو اختتام پذیر ہوگا۔ عرس کا افتتاح محکمۂ اوقاف کے صوبائی وزیر عبدالحسیب نے منگل کے روز کیا تھا جبکہ اختتامی تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ کی آمد متوقع ہے۔

عرس میں شرکت کرنے کے لیے ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے ہزاروں زائرین سیہون پہنچے ہیں۔ سیہون کراچی سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔

عرس کےدوران ’لعل میری رکھیو پت بلاج‘ پر دھمال ڈالا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعرس کےدوران ’لعل میری رکھیو پت بلاج‘ پر دھمال ڈالا جاتا ہے

عرس کی تقریبات کا انتظامیہ کی طرف سے باقاعدہ افتتاح مزار پر چادر چڑھا کر کیا جاتا ہے جبکہ زائرین ایک مخصوص وقت پر دھمال ڈال کر عرس کے آغاز کا نقارہ بجاتے ہیں۔

’لعل میری رکھیو پت بلا‘ پر دھمال ڈالی جاتی ہے جس میں مرد اور خواتین دونوں حصہ لیتے ہیں اور بے حال ہوجاتے ہیں۔

عرس کا اختتام بھی دھمال ڈال کر کیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں افراد شریک ہوتے ہیں۔

لعل شہباز قلندر کی درگاہ کا انتظام صوبائی محکمہ اوقاف کی ذمہ داری ہے۔ تاہم یہ محکمہ اور حکومت لوگوں کی رہائش کے علاوہ ہسپتال کی حالت کو بہتر نہیں بنا سکے۔

درگاہ سے محکمہ اوقاف کو ہر ماہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے جو زائرین نذرانے کی صورت میں سر بہ مہر بکسے میں ڈالتے ہیں۔ نقدی کے علاوہ نذرانے میں زیورات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔