’صرف مذاکرات ہی تنازع کے حل کا بہترین راستہ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔
پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ’پولیس کریک ڈاؤن‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مذاکرات، مذاکرات اور صرف مذاکرات‘ ہی سیاسی تنازع کے حل کا بہترین راستہ ہے۔
پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کی جانب سے ٹوئٹر پر سابق صدر سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فریقین کو اس سیاسی بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔‘
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے بھی تشدد کی مذمت کی گئی ہے اور انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کو رضاکارانہ طور کو مستعفی ہو جانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
لندن سے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بذریعہ ٹیلی فون بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’صورتحال کا تقاضا ہے کہ طاقت کا استعمال کرنے سے بہتر ہے کہ وزیراعظم نوازشریف امن و استحکام اور جمہوریت کی بقا کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور اور اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلا کر اندرونی تبدیلی لے آئیں۔‘

ایم کیو ایم نے اسلام آباد میں پولیس کی کارروائی کے خلاف اتوار کو ملک گیر یومِ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ تحریکِ انصاف بھی اتوار کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے چکی ہے۔
اس سلسلے میں ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے نجی ٹیلی وژن ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے۔ ’ہم نہیں چاہتے تھے کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو۔ اب ہم مجبور ہیں کہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘
کراچی میں احتجاجی دھرنوں کے بارے میں مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ ’سندھ حکومت (طاقت کے استعمال جیسی) ایسی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں اور عام لوگوں کو تکلیف پہنچانیں سے گریز کریں۔
جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ حکومت خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور اس کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہMQM
اسلام آباد میں جاری احتجاج میں عوامی تحریک کے ساتھ شریک جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما چوہدری شجاعت نے اسلام آباد کی موجودہ صورتحال پر ردِ عمل میں پولیس کے تشدد کی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مذاکرات کرنے جا رہے تھے دہشت گردی کرنے نہیں۔‘
ادھر معروف وکیل اور حقوقِ انسانی کی کارکن عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ ’جن قوتوں کو یہ آواز دینا چاہ رہے ہیں وہ اس ملک کا بیڑا غرق کریں گی۔ یہ کرکٹ کھیلتے تھے تو اِن کی عزت تھی اب تو یہ لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔‘







