فوج کو ثالث کس نے بنایا؟ حکومت اور اپوزیشن دونوں انکاری

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر میں فوج سے رابطہ نہ بھی کرتا تو فوج نے یہ کردار ادا کرنا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر میں فوج سے رابطہ نہ بھی کرتا تو فوج نے یہ کردار ادا کرنا تھا

وزیر اعظم پاکستان نے جمعے کو قومی اسمبلی میں بیان میں کہا ہے کہ فوج کو ثالثی کے لیے انھوں نے نہیں کہا تھا بلکہ اس کا مطالبہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہر القادری نے کیا تھا۔

عمران خان اور طاہرالقادری دونوں نے اس کی تردید کی ہے۔

<link type="page"><caption> تحقیقات میں فوج نیوٹرل امپائر ہو گی: عمران خان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/08/140828_army_chief_imran_tahirul_qadri_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’اگر ہم ناکام رہے تو پھر فوج تو ہے نا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/08/140828_pti_pat_dharna_outside_parliament_gh.shtml" platform="highweb"/></link>

قومی اسمبلی میں بات کرتے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا: ’کسی قسم کا ثالثی کا کردار نہ فوج نے مانگا نہ ہم نے، اور یہ جو باہر مجمع لگا کر بیٹھے ہیں سب کو پتہ ہے کہ کتنا سچ بولتے ہیں اور کتنا جھوٹ۔‘

اس موقعے پر وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’اگر میں فوج سے رابطہ نہ بھی کرتا تو فوج نے یہ کردار ادا کرنا تھا کیونکہ دارالحکومت کی حفاظت کی ذمہ داری فوج کی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’فوج نے تنبیہ کی تھی کہ مظاہرین سرکاری عمارات کا رخ نہ کریں۔ اگر ایسا ہوتا تو فوج کارروائی کرتی۔‘

وزیرِ اعظم نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے ملنے کی درخواست پر وزیرِ داخلہ نے ان سے پوچھا تھا اور انھوں نے اس کی فوراً اجازت دے دی تھی۔

ان کا کہنا تھا: ’قادری صاحب اور عمران خان کی طرف سے چوہدری نثار علی خان کو فون آیا اور اس وقت وہ میرے پاس ہی بیٹھے تھے جب انھوں نے مجھے بتایا کہ دونوں چیف آف ارمی سٹاف سے ملنا چاہتے ہیں تو میں نے فوراً کہا کہ اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں۔‘

وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ سیاسی نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل پاکستان نے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں یہی بات کہی تھی کہ عمران خان اور طاہر القادری چاہتے تھے کہ فوج کے ذریعے بات کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے اقدامات قومی اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں ہی کیے جائیں گے۔

انھوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان کے اداروں بشمول عدلیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ آئین، قانون اور جمہوریت کے علاوہ کوئی اور راستہ قابلِ قبول نہیں ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ مولانا طاہرالقادری کی ملاقات انھی دونوں کے مطالبے پر کی گئی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ اس کی درخواست وزیرِ اعظم کی جانب سے کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پارلیمان میں بیانات کے بعد تحریکِ انصاف کے سینیئر نائب صدر شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حکومت کا آج کا بیان سن کر ہم پریشان ہوگئے ہیں۔ حکومت کے کون سے بیان کو تسلیم کریں؟ کل والا یا آج والا۔ ہم نے اس حوالے سے حکومت سے وضاحت مانگی ہے۔ ہماری لڑائی کسی فرد واحد کے لیے نہیں ہے۔ حکومت نے فوج کو کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔‘

عمران خان اور طاہرالقادری بھی انکاری

عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے آرمی چیف کو بتایا ہے کہ جب تک نواز شریف ہیں اس وقت تک انتخابی دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے انھیں بتایا ہے کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات میں فوج نیوٹرل امپائر ہو گی۔

اس کے علاوہ طاہر القادری نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آرمی چیف کو کوئی ٹیلی فون نہیں کیا اور نہ ہم نے فوج کو ثالث بنانے کی کوئی درخواست دی۔‘

اس سے قبل رات گئے عمران خان اور طاہر القادری نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے جمعرات کی رات گئے اسلام آباد دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں انقلاب کے پورے ایجنڈے پر بات ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ وہ آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے مطمئن اور پرامید ہیں کہ انقلاب مارچ کے مقصد کے حصول کے لیے آرمی چیف اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔