فوج کی ضمانت کے باوجود فریقین اپنے موقف پر قائم

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل میں بری فوج کے سربراہ کے ضامن بننے کے باوجود تنازع کے فریقین ابھی تک اپنے اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم دکھائی دے رہے ہیں۔
گذشتہ رات شروع ہونے والے ان مذاکرات کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی سربراہ سے ہونے والی ملاقات میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نواز شریف اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے شہباز شریف کے استعفے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری طرف نواز شریف کے ایک قریبی ساتھی کہ کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ثالثی میں سیاسی بحران کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ابھی تک حکومت کی طرف سے نہ کسی کے استعفے کی پیشکش کی گئی ہے اور نہ ہی ان سے ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
’حکومت کے ساتھ فوجی سربراہ کے رابطوں کے دوران کسی بھی موقعے پر کسی بھی شخصیت کے مستعفی ہونے کی بات نہیں ہوئی ہے۔‘
وزیراعظم کے بعض قریبی رفقا کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں اب تک زیر بحث آنے والی تمام تجاویز عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات پر مرکوز ہیں۔
ان سرکاری افراد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان شخصیات نے استعفے ہی دینے ہیں تو پھر جنرل راحیل کی ضمانت کس لیے ہو گی؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کسی وقت بری فوج کے سربراہ کی وزیراعظم سے ملاقات متوقع ہے جس کے بعد معاہدے کی شقوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور ان کا اعلان کر دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ بری فوج کے سربراہ سے گذشتہ رات ملاقات کے بعد عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کا استعفیٰ نہ آنے کی صورت میں وہ پورے ملک میں دھرنے دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







