ماڈل ٹاؤن واقعے کا مقدمہ درج: ’نامکمل ہے، میں نہیں مانتا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے تھانہ فیصل ٹاؤن میں تحریک منہاج القرآن کی انتظامیہ کی مدعیت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے مقدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں وزیراعطم نواز شریف کا نام شامل نہیں ہے اور اس کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں ہیں۔
طاہر القادری کے ردعمل پر سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے مختلف ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی آر میں وزیراعظم کا نام شامل ہے اور یہ سیشن کورٹ کے فیصلے کے عین مطابق درج کی گئی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں ہیں۔
لاہور کے سی سی پی او ذوالفقار حمید کے مطابق مقدمہ منہاج القرآن کی انتظامیہ کی درخواست کے مطابق درج کیا گیا ہے۔
منہاج القرآن کی درخواست میں 21 حکومتی شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے جس میں وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت کئی وفاقی اور صوبائی وزرا شامل ہیں۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایف آئی آر کے اندارج کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ مسئلہ وزیراعظم کا نہیں بلکہ آئین کا ہے جس کی پاسداری ضروری ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی ایف آئی آر درج کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا: ’وزیراعظم، وفاقی وزرا اور جن جن افراد کے نام علامہ طاہر القادری نے اپنی شکایت میں لکھے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جا رہا ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ ہم اس فیصلے کے خلاف انٹرکورٹ اپیل کریں گے نہ ہی سپریم کورٹ جائیں گے۔ ہم نے اپنے دفاع کے قانونی حق کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’ہمارے پاس انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے تاہم ہم اس سے دستبردار ہو رہے ہیں اور قانون کا سامنا کریں گے۔ ‘
ایک دن پہلے بدھ کو بھی عوامی تحریک کے وکلا پانچ گھنٹے تک تھانہ فیصل ٹاؤن میں مقدمے کے اندارج کے لیے بیٹھے رہے لیکن ایس ایچ او اور محرر کی عدم موجودگی کے باعث ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔ جبکہ تھانے میں مسلم لیگ ن کے حامیوں کی آمد کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے جس پر علاقے کے ڈی ایس پی نے تھانے پہنچ کر قابو پایا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لاہور کی سیشن عدالت نے چند روز پہلے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 حکومتی شخصیات کے خلاف مقدمے کے اندراج کا حکم دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
اس سے پہلے پولیس کی مدعیت میں بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایک ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس ایف آئی آر میں نامزد پانچ ملزمان کو پانچ ستمبر تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس ایف آئی آر میں نامزد تین ملزمان عبوری ضمانت پر ہیں جبکہ دو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں۔
عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے حکومت کے خلاف شاہراہ دستور پر احتجاج دھرنا دے رہے ہیں۔ان کے مطالبات میں ماڈل ٹاؤن واقعے کی ایف آئی آر اور وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ شامل ہے۔







