سرفراز شاہ کیس: اصل ویڈیو طلب

 عدالت نےسرفراز شاہ کو ہلاک کرنے والے رینجرز اہل کار شاہد ظفر کو سزائے موت جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کا حکم سنایا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن عدالت نےسرفراز شاہ کو ہلاک کرنے والے رینجرز اہل کار شاہد ظفر کو سزائے موت جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور جرمانے کا حکم سنایا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سپریم کورٹ نے سرفراز شاہ کیس میں اصل ویڈیو طلب کر لی ہے، جس کی بنیاد پر مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جون 2011 کو کراچی کے بےنظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا۔ سندھی نیوز چینل ’آواز‘ کے کیمرا مین اتفاقی طور پر وہاں موجود تھے، جنھوں نے اس سارے واقعے کی عکس بندی کی تھی جس کے بعد یہ ویڈیو ہر چینل تک پھیل گئی۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو رینجرز اہلکاروں کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ رینجرز کے وکیل خواجہ نوید کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا، سرفراز شاہ کے ورثا بھی ملزمان کو معاف کر چکے ہیں اس کے باوجود سزائیں سنائی گئیں اور ہائی کورٹ نے بھی انھیں بحال رکھا۔

خواجہ نوید نے عدالت میں ایک سی ڈی پیش کی اور بتایا کہ یہ دنیا ٹی وی کے پروگرام کی ہے، جس میں یہ واقعہ دکھایا گیا ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ان سے سوال کیا کہ اصل ویڈیو کہاں ہے؟ خواجہ نوید نے انھیں بتایا کہ وہ آواز ٹی وی کے پاس ہے۔ جسٹس سرمد جلال نے انھیں حکم دیا کہ اصل ویڈیو پیش کی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے اپیل کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ واقعے کی ویڈیو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ انسداد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

اس سے پہلے کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نےسرفراز شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے رینجرز کے اہل کار شاہد ظفر کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا، جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان میں سب انسپکٹر باہو رحمان، ڈرائیور منٹھار علی، سپاہی لیاقت علی، محمد طارق اور محمد افضل اور پارک کے سکیورٹی گارڈ افسر خان شامل تھے ۔

فردِ جرم میں کہا گیا تھا کہ 11 جون 2011 کو مقتول سرفراز شاہ کو شاہد ظفر نے فائر کر کے قتل کیا جو دہشت گردی کا عمل تھا اور اس سے عوام میں خوف کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی اس مقدمے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

سرفراز شاہ کے بھائیوں نے بعد میں ملزمان سے صلح کر لی اور سندھ ہائی کورٹ میں ملزمان کی سزائیں ختم کرنے کی اپیل کی گئی لیکن عدالت نے اس بنیاد پر یہ صلح نامہ مسترد کر دیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں صلح کی گنجائش موجود نہیں۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملزمان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔