لاہور میں زرداری نواز ملاقات، اسلام آباد میں دھرنے والوں سے مذاکرات

آصف زرداری کی پاکستان آمد کے بعد پیپلز پارٹی سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے زیادہ سرگرم ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہpid

،تصویر کا کیپشنآصف زرداری کی پاکستان آمد کے بعد پیپلز پارٹی سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے زیادہ سرگرم ہوئی ہے

پاکستان کی سیاسی صورتحال بالخصوص اسلام آباد میں جاری تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاجی دھرنوں کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان اہم ملاقات لاہور میں شروع ہوگئی ہے۔

ادھر حکومت اور تحریکِ انصاف کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بات چیت کا تیسرا دور بھی آج ہو رہا ہے۔

نواز شریف نے جمعے کو اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو فون کر کے انھیں رائے ونڈ میں ظہرانے پر مدعو کیا تھا۔

اس ملاقات کے لیے آصف زرداری سنیچر کو کراچی سے لاہور پہنچے ہیں اور ان کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا ہے کہ ملاقات میں سابق صدر کی معاونت قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کے علاوہ رضا ربانی، اعتزاز احسن اور رحمان ملک کر رہے ہیں۔

سابق صدر زرداری دو روز قبل ہی پاکستان آئے ہیں اور ان کی آمد کے بعد پیپلز پارٹی سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے زیادہ سرگرم ہوئی ہے۔ اس سے قبل جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ثالث کا کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی تھیں لیکن پیپلز پارٹی کی صفوں میں خاموشی تھی۔

تحریکِ انصاف سے مذاکرات

تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو رات گئے ختم ہوا اور پی ٹی وی کے مطابق حکومتی مذاکرات کار اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل میں کوئی تعطل نہیں اور بات چیت جاری رہے گی۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں نقطۂ اختلاف وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں نقطۂ اختلاف وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ ہے

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ ’پہلی نشست میں ہم نے حکومت کے سامنے چھ مطالبات پیش کیے تھے اور دوسری نشست میں حکومت نے ہمارے ان مطالبات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ جس پر ہم نے انھیں دوبارہ اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔‘

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ’جو معاملات حکومت نے اٹھائے ہم ان پر غور کریں گے اور جو معاملات ہم نے اٹھائے حکومت ان پر غور کرے گی اور ہم آج پھر ملاقات کریں گے۔‘

خیال رہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں نقطۂ اختلاف وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ ہے۔

پی ٹی آئی یہ مطالبہ پورا ہونے تک دھرنا ختم کرنے پر تیار نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اس مطالبے کو اپنی فہرست میں پہلے سے آخری مقام پر لے جائے اور انتخابات میں دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم کے استعفے کی بات کرے۔

عوامی تحریک سے بات چیت

پاکستان عوامی تحریک اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا بھی دوسرا دور جمعے کی شب ہی ختم ہوا۔

اس دور کے بعد عوامی تحریک کے رہنما رحیق عباسی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کی جماعت مسائل کا حل بات چیت سے نکالنے کی حامی ہے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج ہونے تک مذاکرتی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔

پی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر حکومتی کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جلد سے جلد بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتی ہے اور فریقین کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔