غیر آئینی طریقوں سے حکومت تبدیل نہیں ہونی چاہیے: امریکہ

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ماورائے آئین طریقوں سے حکومت کی تبدیلی کی کوششیں نہیں ہونی چاہییں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم پاکستان میں مظاہروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پرامن اظہار رائے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی بھی طرح فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے برخلاف کسی بھی بات میں کوئی سچائی نہیں۔ مگر ہم یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ پرامن طریقے سے بات چیت ہونی چاہیے اور پاکستانی حکومت کو غیرآئینی طریقوں سے تبدیل کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہییں۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ ہم انہی کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے ویسے ہی جیسے ہم وہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے جاری ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں وزیرِ اعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ادھر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے استعفے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مستعفی ہونے سے ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بات جمعرات کو سینیئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس سیاسی مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے حساس مقامات اور ڈی چوک کے قریب حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق جمعرات کی شام مارگلہ روڈ پر دھرنے کے مقام سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر قیدیوں کو منتقل کرنے والی اسلام آباد پولیس کی متعدد گاڑیاں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
وفاقی سیکریٹریٹ کے سامنے اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور آزاد کشمیر پولیس کے تازہ دم دستے بھی پہنچائے گئے ہیں۔
وزیراعظم سیکریٹریٹ کو جانے والے رستوں پر کنٹینروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور اب انھیں اوپر تلے رکھ کر ان کو پھلانگنے کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کنٹینروں کے آگے ریجرز کے مزید جوان تعینات کیے گئے ہیں جبکہ کنٹینروں کی دوسری جانب، یعنی وزیراعظم ہاؤس کے قریب فوجی گاڑیوں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
ایوان صدر کے سامنے مزید فوجی تعینات بھی کیے گئے ہیں۔
حفاظتی انتظامات میں اس اضافے کی حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔







