’اتنے مردوں میں اکیلے، لگتا ہے میں نے کوئی گناہ کردیا‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنوں
’راشن کے لیے اتنے سارے مردوں میں اکیلے، عجیب محسوس ہو رہا ہے۔ مردوں کے اس ہجوم میں اکیلے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کوئی گناہ کر دیا ہے۔‘
یہ کہنا تھا شازیہ (فرضی نام) کا جو شمالی وزیر ستان میں انتہاپسندوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے اپنے گھر میران شاہ سے بنوں آئی ہیں۔
تپتی دھوپ میں ریشم کے سفید برقعے میں سر سے پاؤں تک ڈھکی شازیہ ماں اور تین بہنوں کے لیے راشن لینے ایک غیر سرکاری تنظیم کے راشن پوئنٹ پر مردوں کے ہمراہ اکیلی کھڑی تھیں۔
ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کا بھائی بیرون ملک نوکری کرتا ہے۔ وہ بولیں’اگر ہمارے گھر میں مرد نہیں ہے تو کیا ہم بھوکے مریں؟‘
شازیہ کی تلخی کی وجہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی رہنماؤں کا یہ فیصلہ ہے جس میں انھوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ خواتین تک براہِ راست امداد نہ پہنچائیں، ان کے مرد امداد لینے آئیں گئے اور کوئی بھی عورت گھر سے مرد کے بغیر اکیلی نہیں نکل سکتی۔
پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے شمالی وزیر ستان کی خواتین کی مشکلات دیگر ممالک کی خواتین سے کافی زیادہ ہیں۔
مجبوری کی وجہ سے معاشرے سے بغاوت کر کے گھر سے باہر نکلنے والی بعض قبائلی خواتین نے کیمرے پر آنے سے انکار کر دیا۔ خاتون صحافی ہونے کے باوجود ان سے بات کرنے میں کئی دشواری پیش آئی ۔یہ دلائل دینے کے باوجود بھی کہ شناخت شائع نہیں کی جائے گی، شازیہ کے خدشات دور کرنے میں خاصا وقت لگا۔
وہ اس بات سے خائف تھیں کہ اگر کسی بھی رشتہ دار نے ٹی وی پر انھیں دیکھ لیا تو بہت بدنامی ہو جائے گی اور نہ جانے سزا کیا ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی حکومت کہتی ہے کہ اس کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں بنوں کمشنر سید محسن شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’قبائلی عمائدین کے ایک جرگے نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور گورنر سے درخواست کی ہے کہ ان کی عورتوں کی نہ تو رجسٹریشن ہو گی اور نہ ہی وہ بغیر مرد کے گھر سے باہر امداد حاصل کرنے کے لیے نکلیں گی۔ اس لیے انھیں مجبور نہ کیا جائے۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ ان متاثرہ قبائلی خواتین کا کیا ہو گا جن کے گھر میں مرد موجود نہیں؟
اس پر کمشنر بنوں کا کہنا تھا ’معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہماری رسائی متاثرہ خواتین تک بہت مشکل ہو رہی ہے۔ ہم جرگے کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے دشواریاں بڑھ جائیں گی۔آپ کسی کو مجبور تو نہیں کر سکتے کہ ہمیں آپ کی خواتین سے ملنا ہے یا بات کرنی ہے۔‘
کمشنر بنوں کے مطابق ’بنوں میں اب تک ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ آئی ڈی پیز رجسٹر کیے گئے ہیں جن میں 70 فیصد سے زیادہ کی شرح خواتین اور بچوں کی ہے۔‘
ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ معاشرتی تنگ نظری کے باعث نقل مکانی کرنے والے بچوں اور خواتین میں امراض پھیلنے کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔
خواتین کے لیے مخصوص پاکستان ہلالِ احمر کے ایک ہیلتھ یونٹ گئی تو وہاں کالے برقعے میں ڈھکی گل بی بی (فرضی نام) سے ملاقات ہوئی۔
ان کی کمر اور جوڑوں میں درد ہے۔ آپریشن کے باعت گھر چھوڑنے کی خبر ملی تو انھیں میران شاہ سے بنوں تک کا سفر پیدل طے کرنا پڑا۔
ضروری سامان اٹھائے وہ تین دن پیدل چلنے کے بعد بنوں پہنچیں جس کی وجہ سے اب ان کی تکلیف بڑہ گئی ہے۔ مگر ہر تکلیف سے بڑا قبائلی روایات کا تقدس ہے۔
انھیں خصوصی خوااتین کے لیے بنائے گئے مرکز پر بھی جانے کے لیے اپنے شوہر کو راضی کرنے کے لیے بھی جتن کرنے پڑے۔
باآخر انھیں شدید تکلیف میں دیکھ کر ان کے شوہر انھیں ڈاکٹر کے پاس لے ہی آئے۔
آپریشن ضرب عضب کے پیشِ نظر شمالی وزیر ستان سے نقل مکانی کرنے والے ہر فرد کی تکالیف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے طاقت کے گڑھ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کے پیچھے چھپ گئی ہیں۔







