سیاست کا چڑھتا پارہ اور عام ووٹر کی رائے

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں سیاسی پارہ تیزی سے چڑھ رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت گرانے کے لیے ’آزادی مارچ‘ کے ذریعے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے جبکہ نواز حکومت پوری طاقت کے ساتھ اسے دبانے کی تیاری میں نظر آتی ہے۔
اسی تناظر میں بی بی سی اردو کی شمائلہ خان نے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے ووٹروں سے بات کی اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔
امجد شہزاد، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹر
’نواز شریف ابھی آئے ہیں اُن کو چار سال مزید لگانے دیں اُس کے بعد انھیں آزمانا چاہیے۔

طاہرالقادری صاحب نے عوام سے کہا کہ کوئی بھی پولیس آفیسر مسئلہ کرتا ہے اُسے اُٹھا لاؤ۔ قتل کا بدلہ قتل کہنا مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ ان کا حق بنتا ہے۔ حکومت نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا کیونکہ انھوں نے فساد کی کوشش کی، جو نہیں ہونا چاہیے۔
عمران خان کو سپریم کورٹ جانا چاہیے تھا۔ یہ ریلی اور یہ جلوس نہیں نکالنے چاہییں کیونکہ ضربِ عضب آپریشن شروع ہے اور ملک کے حالات دیکھیں۔ 14 اگست آزادی کا دن ہے۔ اُسی دن عمران خان صاحب ریلی نکال رہے ہیں، یہ اچھی بات نہیں۔
دیکھیں کہ سنہ 2010 سے پشاور اور کراچی ، قبائلی ایجنسیوں میں کتنے دھماکے ہو رہے تھے ۔ابھی تک اِسے کوئی روک نہیں سکا تھا۔ یہ واحد شخص ہے نواز شریف صاحب، جس نے شِمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن شروع کیا اور دیکھیں کتنی دہشت گردی کنٹرول ہوگئی۔
ابھی کسی دھماکے کا سُنا آپ نے؟ اگر انھوں نے پانچ سال لگائے تو انشاءاللہ بجلی بھی آجائے گی اور ملک سے دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی۔‘
صائمہ فخر، پاکستان تحریک انصاف کی ووٹر

’ہمیں یقین ہے کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں وہ ویسا کریں گے بھی۔ میں اپنے بچوں سمیت دھرنے میں شرکت کروں گی اور تب تک دھرنے میں بیٹھی رہوں گی جب تک نواز حکومت ختم نہیں ہو جاتی۔
14 اگست کے روز چاہے کتنی رکاوٹیں ہوں ہم احتجاج کے لیے نکلیں گے۔ اگر آپ کا جنون ہوتا ہے تو آپ کرگزرتے ہیں۔
فرض کریں اگر عمران خان کو حکومت ملتی ہے اور اگر وہ کسی کام میں دیر کرتے ہیں تو ہم مانتے ہیں کہ وہ تجربہ کار نہیں ہیں۔ نواز حکومت تو تیسری دفعہ حکومت میں آئی ہے اور ان کا آؤٹ پُٹ کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی حکومت تو زرداری حکومت سے بھی بُری ہے۔
ہمارے لیڈر مارشل لا کی حمایت نہیں کرتے تو ہم بھی نہیں کرتے، لیکن میں کہتی ہوں کہ اگر مارشل لا آ بھی جائے گا تو وہ بہت اچھا ہوگا، نواز شریف کی حکومت سے۔ لوگ بہت تنگ ہیں اِن لوگوں سے۔‘
ممتاز بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹر
’احتجاج کرنا سب کا حق ہوتا ہے اگر جمہوریت ہے۔ اگر احتجاج ہورہا ہے تو یقیناً کسی نہ کسی غلط بات پر ہو رہا ہے۔
لاہور میں حکومت نے جو کیا وہ بہت غلط کیا ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں لال مسجد پر ہونے والے حملے کو ہم آج تک بُرا کہتے ہیں صرف اسی لیے کہ مارشل لا تھا، وہ جرنیل تھا، وہ کر سکتا ہے لیکن جمہوری حکومت میں تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

ہم نے انھیں ووٹ دیا ہے جس سے یہ پارلیمان میں آ کر بیٹھے ہیں۔ اب ہم احتجاج کریں تو یہ گولیاں چلائیں تو میں ایسی جمہوریت کو نہیں مانتا۔
میں اِس حق میں نہیں ہوں کہ فوج آ جائے اور نہ ہی میں یہ چاہوں گا کہ صرف اِن چار سیٹوں کی وجہ سے پوری حکومت ختم ہو جائے۔
شروع میں ہی حکومت ان کو آنے دیتی تو زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ لوگ آ جاتے۔ ہوا یہ ہے کہ 15 دن سے راستے بند کرنا، کنٹینر لگانا، باہر کی پولیس کو لانا، لوگوں کو تنگ کرنا، پیٹرول نہیں مل رہا، پورا لاہور سِیل کر دیا، وہاں پہ ایک دو ہلاکتیں بھی ہوگئیں۔ کوئی ہسپتال نہیں پہنچ سکا، کوئی اپنی شادی پر جا رہا ہے تو پیدل دُلھن لے کر جا رہا ہے۔
حکومت کے اِس رویے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں عمران خان کے لیے ہمدردی بڑھ گئی اور اب ہو سکتا ہے پانچ کے بجائے 15 لاکھ لوگ گھروں سے نکلیں۔
پیپلز پارٹی کے دور میں بھی لوگ سڑکوں پہ نکلے لیکن اُن کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا گیا۔ اُس جمہوریت کو دیکھیں اور اِس جمہوریت کو دیکھیں۔ اب اس حکومت کے منھ سے اچھا نہیں لگتا کہ وہ کہیں کہ وہ جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت کو پسند کرتے ہیں۔‘
مجاہد حُسین، آل پاکستان مسلم لیگ کے ووٹر

’نواز شریف غریب دُشمن ہے، ملازم دشمن ہے۔
زرداری صاحب نے پانچ سال اپنی سیاست میں لگائے لیکن انھوں نے غریب کو تنگ نہیں کیا۔
شہباز شریف نے جلسوں میں اعلان کیا کہ ہم تین مہینوں کے اندر اندر بجلی دیں گے۔ اگر بجلی نہ آئی تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ اب بتائیں اُن کا کیا نام ہونا چاہیے۔
ہمیں اِس وقت بجلی اور گیس کی ضرورت ہے۔ یہ میٹرو بنا رہے ہیں اپنا سریا بیچنے کے لیے۔ ہم گھر جاتے ہیں تو گرمی میں بچے سُلگ رہے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں پاپا جی بجلی کِس وقت آئے گی۔ جس چیزکی ضرورت ہے وہ دیتے نہیں اور میٹرو چلا رہے ہیں۔
ہم نہیں چاہتے کہ توڑ پھوڑ مار دھاڑ ہونی چاہیے۔ پنجاب میں جو ہوا ہے کہ عورتوں اور مردوں کوگولیاں ماری گئی ہیں، یہ کہاں کی انسانیت ہے۔
عمران خان سے بھی ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے، وہ پہلے کدھر تھے؟ حلف کیوں لیا تھا، اُس وقت حلف نہ لیتے، اُس وقت کہتے یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں فوج ہونی چاہیے۔ یہ عوام ڈنڈے کی ہے، ڈنڈے کے بغیر یہ قابو نہیں آ سکتی۔
حکومت میں موجود لوگ جمہوریت کے قابل نہیں ہیں۔ بس ہم ان کے خلاف ہیں۔ یہ ملک کو لُوٹ رہے ہیں۔ان کے تمام اثاثے باہر کے ملکوں میں پڑے ہیں ، وہاں سے قرضے لیتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں خزانے خالی پڑے ہوئے ہیں۔
باہر کے ملکوں میں پڑا ان کا پیسہ واپس لے کر آئیں۔ یقین کریں یہ ملک ترقی کرے گا۔‘







