دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا اعلان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کی شب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر قوم سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن بنایا جائے گا۔
انھوں نے چیف جسٹس سے اس کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی جو دھاندلی کے الزامات کی مکمل چھان بین کے بعد اپنی حتمی رائے دے۔
وزیراعظم نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کا فیصلہ قوم پر چھوڑتے ہیں کہ حکومت کے اس اقدام کے بعد کیا کسی احتجاجی تحریک کی گنجائش رہ جاتی ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کے خلاف چودہ اگست کو آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے جس کی منزل اسلام آباد ہے۔
وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات کی ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی مبصرین نے بھی نگرانی کی تھی اور کسی نے بھی انتخابات کو غیر شفاف قرار نہیں دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ایک خاص جماعت کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سنتا آ رہا ہوں اور اب ان بے بنیاد الزامات کی وجہ سے بے یقینی کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے: ’ہر قومی معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔پر امن احتجاج سب کا آئینی حق ہے لیکن کسی کو بھی انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمان میں ہوں گے اور مٹھی بھر افراد کو کروڑوں عوام کا مینڈیٹ یرغمال بنانے نہیں دیا جائے گا۔
نواز شریف نے گذشتہ 14 ماہ کے دوران ملک کی معیشت کی بہتری اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کا ذکر بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جون 2013 میں بحران میں گھرے ملک کو مایوسی کی بجائے چیلنج سمجھ کر سنبھالا۔
نواز شریف نے کہا ’ہم ایک طرف ملک کو ترقی کی جانب لے کر جا رہے ہیں دوسری جانب کچھ لوگ کھوکھلے نعروں اور احتجاجی مظاہرے کر کے ترقی کو روک رہے ہیں۔‘
’وہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ تو بتائیں۔ آپ لوگ پوچھیں ان سے کیوں ترقی میں رخنے ڈال رہے ہیں۔ پوچھیں ان سے کیوں لانگ مارچ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے میڈیا کے حوالے سے کہا کہ میڈیا اس سیاسی صورتحال پر اپنے کردار پر بھی نظر ڈالے اور دیکھے کہ کچھ عناصر اس کی آزادی کو اپنے پرتشدد اور غیر آئینی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کر رہے۔







