احتجاج کا مقصد فوج کو بلانا نہیں ہے: عمران خان

’سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے نے انتخابات کے روز میاں نواز شریف سے تقریر کروائی تھی‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے نے انتخابات کے روز میاں نواز شریف سے تقریر کروائی تھی‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کے احتجاج کا مقصد فوج کو بلانا نہیں ہے اور نہ ہی فوج پاکستان کے مسائل کا حل ہے۔

انھوں نے کہا کہ نواز حکومت فوج کے اقتدار سنبھالنے کا خوف دلا کر فوج کے پیچھے چھپ رہی ہے: ’فوج پاکستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے 14 اگست کو ’آزادی مارچ‘ کی کال دی ہے۔

اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے ملک میں 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی قیادت پر متعدد الزامات لگائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سابق جج خلیل الرحمن رمدے، پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن ریاض کیانی اور سابق نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے دھاندلی کروائی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے نے انتخابات کے روز میاں نواز شریف سے تقریر کروائی تھی۔

عمران خان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا عینی شاہد ہے جس نے وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کے گھر پر الیکشن سے قبل بیلٹ باکس جاتے دیکھے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عینی شاہد کو اس وقت تک سامنے نہیں لایا جائے گا جب تک انھیں گواہ کی حفاظت کا یقین نہیں ہو گا۔

عمران خان کا موقف ہے کہ نو مئی 2013 یعنی انتخابات سے صرف دو روز قبل پنجاب کے الیکشن کمشنر انور محبوب نے ’لاکھوں بیلٹ پیپر‘ چھپوائے جو کہ پرنٹنگ پریس آف پاکستان نہیں کر سکتا تھا اسی لیے انھیں آؤٹ سورس کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لاکھوں بیلٹ پیپر کی مدد سے مسلم لیگ ن کے حق میں دھاندلی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی اداروں سے بیلٹ چھپوا کر پنجاب کے پانچ ڈویژن میں بھجوا دیے گیے جن میں لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی ڈویژن شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ان پانچ ڈویژنوں میں قومی اسمبلی کی 98 نشستیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کو دیگر الیکشن کمشنروں کی سربراہی کرنا تھی تاہم وہ ان ’پانچ میں سے ایک‘ ثابت ہوئے۔

اس کے علاوہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انتخابات کے دوران سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی رہائش گاہ پر ایک الیکشن سیل بنایا گیا جہاں سے ریٹرنگ افسران کو ’کنٹرول‘ کیا جا رہا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عین وقت پر پنجاب کے الیکشن کمشنر طارق قادری کی منتقلی اور کراچی سے انور محبوب کو لاہور بلانا اسی دھاندلی کی کڑی تھی۔

انھوں نے کہا نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے پولیس اور دیگر انظامیہ کی منتقلیاں تو کیں تاہم ان کی جگہ بھی ’شہباز شریف کے لوگوں کو‘ تعینات کیا۔

انھوں نے کہا کہ نجم سیٹھی کی حکومت نے صوبائی وزارتِ تعلیم، سیکرٹری صوبائی وزارتِ داخلہ اور سیکرٹری صوبائی وزارتِ خزانہ کو تبدیل نہیں کیا۔

عمران خان نے سوال کیا کہ ان انتخابات کو کیسے درست مان لیا جائے جہاں حکومت خود کہتی ہے کہ حلقوں میں 60 سے 70 ہزار ووٹ کی جانچ پڑتال نہیں ہو سکتی۔

’اجازت کی ضرورت نہیں‘

کمشنر اسلام آباد کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے نام ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی ریلی یا اجتماع کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو قبل از وقت آگاہ کرنا ضروری ہے تاہم تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتی۔

کمشنر اسلام آباد کا اس خط میں کہنا ہے کہ اب تک وفاقی انتظامیہ کو نہ تو کسی عوامی جلسے کے انعقاد کے لیے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق ایسی کوئی اجازت دی ہے۔

’سکیورٹی کی خطرناک صورتحال کی وجہ سے خبرادار کیا جاتا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے دارالحکومت اسلام آباد کی میں عوامی اجتماعات اور جلسے جلوسوں کے انعقاد پر پابندی ہے، اس لیے کسی بھی عوامی اجتماع سے پہلے انتظامیہ کو آگاہ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت لی جائے تاکہ ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں دفعہ 144 میں نرمی کی جا سکے۔‘

دوسری جانب تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی علی محد خان نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں ان کی جماعت نے اب تک کوئی بھی درخواست اسلام آباد انتظامیہ کو ارسال نہیں کی۔

بی بی سی سے گفتگو میں علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ’یہ جلسہ نہیں بلکہ لانگ مارچ ہے آزادی مارچ ہے یہ کسی ایک جگہ کے لیے مخصوص نہیں اس لیے اس کے لیے کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ‘