’ہمارا انقلاب مارچ اور عمران کا آزادی مارچ اب اکٹھے چلیں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں ’یومِ شہدا‘ کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے 14 اگست کو ’انقلاب مارچ‘ کا اعلان کر دیا ہے۔
لاہور میں اتوار کو ’یومِ شہدا‘ کے موقعے پر اپنے خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ 14 اگست کو ’انقلاب مارچ‘ شروع ہو گا جس کے لیے سب کو باہر نکلنا ہو گا۔
انھوں نے مزید کہ ’انقلاب مارچ‘ اور ’آزادی مارچ‘ اکٹھے چلیں گے۔طاہر القادری کے مطابق وہ عمران خان کے ساتھ چل کر ’ظلم کا خاتمہ‘ کریں گے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی طویل تقریر کے اختتام پر انقلاب مارچ کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ اپنے کارکنوں کو تین دن تک منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر موجود پنڈال میں ہی بیٹھے رہنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں 14 اگست کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے لیے نکلیں گے اور اس میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عمران خان کے مطابق ’وزیراعظم نواز شریف کے مستعفی ہونے کی صورت میں بھی عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا احستاب کیا جائے گا۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق طاہر القادری کے انقلاب مارچ کے اعلان پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تصادم کی صورتحال بنتی جا رہی ہے اور اس میں اگر موجودہ نظام کا خاتمہ ہوتا ہے تو ذمہ دار وہی جماعتیں ہوں گی جو یہ کر رہی ہیں۔
طاہر القادری کے انقلاب مارچ کے اعلان پر وفاقی وزیر وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک ملک میں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریڈیو پاکستان کے مطابق پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی منفی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا تھا کہ 14 اگست کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی اپیل سے ایک خوشی کے موقع پر لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس سے پہلے لاہور میں یومِ شہدا کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری نے اپنے اوپر عائد کیےگئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سپاہی محمد اشرف سڑک حادثے میں ہلاک ہوئے تھے اور پاکستان عوامی تحریک پر اس کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم تشدد کے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہیں۔‘طاہرالقادری نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت نے راستے بند کر کے ہمارے کارکنوں کو روکا۔انھوں کا کہنا تھا حکومت نے ان کے اوپر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے جنھیں ثابت نہیں کیا جا سکا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر اتوار کو لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور کارکنوں کے خلاف پنجاب پولیس کے اہلکار کانسٹیبل محمد اشرف کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ مقدمہ لاہور کے تھانے نصیر آباد میں درج ہوا جس میں قتل، اقدامِ قتل اور دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔
تھانہ نصیرآباد کے محرر آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ کانسٹیبل محمد اشرف جمعے کی شب ماڈل ٹاؤن کچہری کے قریب پیدل جا رہے تھے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے ان پر حملہ کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ کانسٹیبل محمد اشرف کو زخمی حالت میں جنرل ہسپتال لے جایا گیا جہاں انھوں نے دم توڑ دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور میں اتوار کو عملی طور پر کرفیوکا سماں رہا، سڑکوں اور بازاروں میں رش نہ ہونے کے
برابر تھا، شہر کے تمام داخلی راستے جزوی طور پر بند رہے جبکہ شہر کے بڑے حصے میں کنٹینرز لگا کر آمدورفت رکی رہی۔
پولیس نے لاہور میں تین روز پہلے کنٹینرز لگانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور خاص طور وہ تمام راستے بند کیے گئے جوماڈل ٹاؤن منہاج القرآن سیکریٹریٹ تک جا رہے تھے۔
ماڈل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس معطل کر دی گئی۔







