’قادری آئے اپنی مرضی سے، جائیں گے قانون کی مرضی سے‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیرِاطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کینیڈا سے پاکستان اپنی مرضی سے آئے ہیں اور اب وہ قانون کی مرضی سے ہی واپس جا سکیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ پیر کے روز راولپنڈی اسلام آباد میں پولیس اہل کاروں کو جس طرح طاہرالقادری کے ’غنڈوں‘ نے تشدد کا نشانہ بنایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔
منگل کے روز راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں زخمی پولیس اہل کاروں کی عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اپنی مرضی سے پاکستان واپس آئے اور اب وہ اپنی ماضی سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ قانون نے ابھی تک اُنھیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔
اُنھوں نے کہا کہ پیر کے روز ڈاکٹر طاہرالقادری کے حامیوں نے جس طرح پولیس اہلکاروں کے اندرونی نازک اعضا کو نشانہ بنایا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ اُنھوں نے کہا کہ پیر کے روز طاہر القادری کے حامیوں کے پولیس اہل کاروں پر تشدد کو میڈیا پر دکھایا گیا اور لوگ اس بارے میں بہتر طور پر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ غنڈہ گردی کس نے کی۔
ایک سوال پر کہ کیا وفاقی حکومت کینیڈا کی حکومت سے اُن کے شہری طاہر القادری کی طرف سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی شکایت کرے گی، جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اس تجویز پر غور کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ان جیسے لوگ ملک میں بدامنی پھیلا کر شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد ہمارے مہمان ہیں اور ہم اُن کا خیال رکھیں گے۔
دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قاضی فیض اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے قائد طاہرالقادری پاکستانی شہری ہیں اور وہ جب چاہیں بیرون ملک جاسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اُنھیں بیرون ملک جانے سے روکنے کی کوشش کی تو پھر وہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے پیر کے روز طاہرالقادری کو کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات ختم کرنے کے سلسلے میں یقین دہانی کروائی تھی لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے ہوئی۔







