طاہر القادری کی واپسی پر مظاہرے اور جھڑپیں

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی وطن واپسی پر مظاہرے اور تشدد کے واقعات

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے وطن واپسی پر ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد ایئرپورٹ کے باہر جمع تھی۔ امارات کی پرواز کا رخ اسلام آباد سے لاہور کی موڑ دیا گیا جبکہ لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد طاہرالقادری نے جہاز سے اترنے سے انکار کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے وطن واپسی پر ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد ایئرپورٹ کے باہر جمع تھی۔ امارات کی پرواز کا رخ اسلام آباد سے لاہور کی موڑ دیا گیا جبکہ لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد طاہرالقادری نے جہاز سے اترنے سے انکار کر دیا تھا۔
ان کی آمد سے پہلے پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
،تصویر کا کیپشنان کی آمد سے پہلے پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے ساتھ راولپنڈی میں جھڑپوں کے دوران پولیس کے 100 سے زیادہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے ساتھ راولپنڈی میں جھڑپوں کے دوران پولیس کے 100 سے زیادہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
لاہور ہوائی اڈے پر جہاز کے اترنے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد ہوائی اڈے پہنچ گئی۔
،تصویر کا کیپشنلاہور ہوائی اڈے پر جہاز کے اترنے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد ہوائی اڈے پہنچ گئی۔
لاہور میں طاہر القادری نے جہاز سے نجی ٹی وی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ریاستی دہشت گردی کی ایک اور بدترین مثال ہے۔ مسافر اترنا نہیں چاہتے اور میں نہیں اترنا چاہتا۔ جہاز واپس اسلام آباد جائے گا۔ دفاعی ادارے کہاں ہیں اور کیا فوج نہیں دیکھ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب تک فوجی افسر نہیں آتے وہ جہاز سے نہیں اتریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کو ماشل لا کے لیے نہیں سکیورٹی کے لیے بلا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلاہور میں طاہر القادری نے جہاز سے نجی ٹی وی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ریاستی دہشت گردی کی ایک اور بدترین مثال ہے۔ مسافر اترنا نہیں چاہتے اور میں نہیں اترنا چاہتا۔ جہاز واپس اسلام آباد جائے گا۔ دفاعی ادارے کہاں ہیں اور کیا فوج نہیں دیکھ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب تک فوجی افسر نہیں آتے وہ جہاز سے نہیں اتریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کو ماشل لا کے لیے نہیں سکیورٹی کے لیے بلا رہے ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد نے ایئر پورٹ کی جانب جانے کی کوشش کی اور لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی بڑی تعداد نے ایئر پورٹ کی جانب جانے کی کوشش کی اور لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔
سرکاری ذرائع ابلاع کے مطابق ہوائی اڈے کے قریب پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشنسرکاری ذرائع ابلاع کے مطابق ہوائی اڈے کے قریب پولیس نے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
گذشتہ روز اتوار کو منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے ترجمان حفیظ چوہدری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’600 سے زائد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں اور حکومت کی طرف سے سکیورٹی کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا لیکن اگر آیا بھی تو ہم اسے وصول نہیں کریں گے۔‘
،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز اتوار کو منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے ترجمان حفیظ چوہدری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’600 سے زائد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں اور حکومت کی طرف سے سکیورٹی کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا لیکن اگر آیا بھی تو ہم اسے وصول نہیں کریں گے۔‘
چھلے ہفتے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنچھلے ہفتے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے قبل جنوری 2013 میں طاہر القادری نے اپنے سینکڑوں کارکنوں سمیت اسلام آباد میں چار روز تک دھرنا دیا تھا جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشناس سے قبل جنوری 2013 میں طاہر القادری نے اپنے سینکڑوں کارکنوں سمیت اسلام آباد میں چار روز تک دھرنا دیا تھا جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم ہوا تھا۔