بلوچستان میں سیاسی ہلچل کیوں نہیں؟

عمران خان نے چودہ اگست کو اسلام آباد میں حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے
،تصویر کا کیپشنعمران خان نے چودہ اگست کو اسلام آباد میں حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں وہ سیاسی گرما گرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے جو تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہے۔

دونوں جماعتوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے اسلام آباد، پنجاب اور پشاور میں سیاسی درجہ حرارت اضافہ ہوا ہے بلکہ اس نے لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں تو معمولات زندگی کو بھی بڑی حد تک متاثر کیا ہے تاہم بلوچستان میں ایسا کچھ بھی نہیں۔

بلوچستان میں دونوں جماعتوں کی احتجاجی تحریک کے اثرات کیوں دکھائی نہیں دیتے؟

اس بارے میں سینیئر تجزیہ نگار شہزاد ذوالفقار کا کہنا ہے کہ’دونوں جماعتوں کابلوچستان میں کوئی خاص اثرورسوخ نہیں۔‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی حد تک تحریک انصاف اور عوامی تحریک یہاں کی جماعتوں کو ساتھ ملا سکتی تھیں لیکن یہاں کی سٹریٹ پاور رکھنے والی قابل ذکر جماعتیں ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔

بلوچستان میں جن جماعتوں کے پاس سٹریٹ پاور ہے ان میں قوم پرست اور مذہبی جماعتیں باالخصوص دیوبندی مکتبہ فکر کی حامل جماعتیں شامل ہیں۔

جہاں تک پارلیمانی سیاست کرنے والی قوم پرست جماعتوں کا تعلق ہے ان میں سے نیشنل پارٹی اور پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حکومت میں شراکت دار ہیں۔

سٹریٹ پاور رکھنے والی مذہبی جماعتوں کی بھی تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے ہم آہنگی نہیں ہے۔

علیحدگی پسند بلوچ قوم پرست جماعتوں کے لیےگذشتہ کچھ برسوں سے لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے سبب اعلانیہ سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہا ہے۔

لاہور میں طاہر القادری کی عوامی تحریک بھی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلاہور میں طاہر القادری کی عوامی تحریک بھی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے

بلوچستان میں اس وقت سب سے دلچسپ صورتحال مسلم لیگ (ق) کی ہے ۔مسلم لیگ مرکزی سطح اور دیگر صوبوں میں حکومت کے خلاف تحریک کا حصہ ہے لیکن بلوچستان کی حد تک وہ بھی احتجاج کا حصہ نہیں بن رہی۔

سینیئر صحافی رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ (ق) نے بلوچستان کے حالات کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) نے بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھی سپورٹ کیا۔

’اس سے قبل سینیٹ میں بھی بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) نے اپنی مرکزی قیادت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا ۔ اب بھی مسلم لیگ (ق) بلوچستان طاہر القادری کے ساتھ نہیں چل رہی ہے۔‘

بلوچستان میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جن جماعتوں نے سب سے زیادہ احتجاج کیا تھا ان میں بی این پی مینگل بھی شامل تھی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو اس لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دی ہے لیکن وہ بھی اس مارچ کا حصہ نہیں بن رہے۔