پشاور: ٹریفک پولیس دفاع کرے یا ڈیوٹی دے؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
ایک ہاتھ میں کلاشنکوف اور دوسرے ہاتھ میں چالان بک ایسی حالت میں ٹریفک پولیس کے اہلکار خود کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے بچائیں یا فرائض سرانجام دیں۔
دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختون خوا کے شہر پشاور میں آج کل تقربناً ہر بڑے چوراہے اور سڑک پر ایسا ہی منظر نظر آتا ہے جہاں ٹریفک پولیس کے اہلکار فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں کلاشنکوف تھامے دکھائی دیتے ہیں۔
ان اہلکاروں کے پاس پہلے اپنے دفاع کےلیے صرف ایک پستول ہوا کرتا تھا لیکن پشاور میں پولیس اہلکاروں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث اب انھیں کلاشنکوف بھی دی جا رہی ہیں۔ ان اہلکاروں کو ایسی حالت میں ڈیوٹی دینے میں مشکلات بھی پیش آ رہی ہیں۔
ٹریفک پولیس اہلکار انور خان گزشتہ کئی دنوں سے ٹاؤن چوک یونیورسٹی روڈ پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
وہ ٹریفک پولیس میں ٹکٹنگ افیسر کے عہدے پر فائز ہیں لیکن آجکل وہ رائیڈر سکواڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جس کا کام شہر کے اہم مقامات پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی حفاظت کرنا ہے۔
انور خان کا کہنا ہے کہ پشاور میں پولیس اہلکار انتہائی سخت قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں جس میں ان کو اپنی ڈیوٹی سے زیادہ اپنے جانوں کی فکر لگی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پشاور کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر سیکٹر میں سڑکوں اور چوراہوں پر ڈیوٹی دینے والے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی حفاظت کےلیے وہاں دو دیگر اہلکار بھی موجود رہتے ہیں جن کا کام ٹریفک کا نظام چلانے والے اہلکاروں کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق یہ اقدامات حال ہی میں کیے گئے ہیں تاکہ پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کو روکا جاسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حفاظت پر مامور اہلکاروں کا تعلق بھی ٹریفک پولیس سے ہی ہے۔
’ ہماری ڈیوٹی اس لیے بھی سخت ہے کہ ایک تو شدید گرمی کا موسم اور رمضان میں سارا دن دھوپ میں کھڑا رہنا پڑتا ہے اور دوسرا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس وقت گولی کا نشانہ بن جائیں۔‘
ان کے بقول ’ جب ہم گاڑیوں کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ہم یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کس وقت کس گاڑی سے گولی چل جائے ایسی صورت حال میں یہ نہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی آپ پر حملہ کر رہا ہے اور اپ خود کو اس سے بچائیں۔‘
پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ اب تو انہیں کلاشنکوف بھی دی گئی ہیں جبکہ بلٹ پروف جیکٹ بھی پہننا پڑتا ہے اور اس طرح کوئی 15 کلوگرام وزن کے ساتھ فرائض سرانجام دینا انتہائی مشکل کام ہے۔
پشاور میں پچھلے کچھ عرصہ سے پولیس اہلکاروں کو ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ واقعات شہر کے مصروف علاقوں میں دن دہاڑے پیش آ رہے ہیں جس میں اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ حملہ آور موٹرسائیکل یا گاڑیوں میں آ کر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر آسانی سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان حملوں میں ٹریفک پولیس کے اہلکار اور افسر بھی مارے جا چکے ہیں۔
ایک سال پہلے بھی اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے تھے تاہم بعد میں پولیس کے مطابق ان حملوں میں ملوث دو گروہوں کی نشاندہی پر ان کے خلاف کاروائی کی گئی جس کے بعد ان واقعات میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔
تاہم انسپیکٹر جنرل پولیس ناصر درانی کے مطابق اہلکاروں کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گروہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس طرح کی وارداتوں کے بعد قبائلی علاقوں کی جانب واپس چلے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں دو سے تین گروہ ملوث ہیں جن میں درہ آدم خیل اور خیبر ایجنسی کے گروہ نمایاں ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پولیس اہلکار خود پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام کیوں نظر آ رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔؟
دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیر (ریٹائرڈ) ساعد محمد کا کہنا ہے کہ کمزور تربیت اور قیادت کے باعث پولیس اہلکار شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے جس میں شدت پسند انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں پولیس انتہائی کمزور نظر آتی ہے۔
ساعد محمد کے مطابق جب تک پولیس کو جدید خطوط پر اعلی پیشہ ورانہ تربیت نہیں دی جاتی اور ان کو جدید سامان سازوسامان اور اسلحہ فراہم نہیں کیا جاتا اس وقت تک نہ صرف امن و امان کی صورت حال بہتر ہوسکتی ہے اور نہ پولیس کے خلاف تشدد کے واقعات کم ہوسکتے ہیں۔







