وزیرستان میں آپریشن سے’انسانی المیہ‘ جنم لے رہا ہے: عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے ایک ’انسانی سانحہ‘ جنم لے رہا ہے اور خیبر پختونخوا میں ان کی جماعت بغیر امداد کے بے گھر ہونے والے افراد کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔
عمران خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کو امدادی ایجنسیوں کو خیبر پختونخوا میں کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ امداد کے بغیر ان کی حکومت صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
پاکستانی اہلکاروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں تین ہفتے پہلے شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد ساڑھے سات لاکھ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ قریبی صوبے خیبر پختونخوا میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری پاکستانی طالبان اور ازبک دہشت گردوں نے قبول کی تھی۔
حکومت کا موقف ہے کہ فوجی آپریشن کا مقصد قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔
پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں غیر ملکی دہشت گردوں کو نکالنے کے لیے علاقے میں ٹینک بھیج رہی ہے۔
پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران درجنوں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد قریبی ضلعے بنوں اور افغانستان میں منتقل ہو رہی ہے۔







