’انکل وہاں بڑی گنیں چل رہی ہیں‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، بنوں
بنوں سے چار کلومیٹر دور اینٹوں کے بھٹوں کے درمیان خالی میدان میں کئی بچے کھیل کود رہے ہیں لیکن نو سالہ زیب خان دور سے انھیں دیکھ رہا ہے۔
زیب خان کا بایاں بازو ٹوٹا ہوا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے اس کو آرام کرنے کے لیے کہا ہے مگر ایک کمرے میں 20 لوگ ہونے کی وجہ سے اس کو لیٹنے کی بھی جگہ دستیاب نہیں۔
زیب خان کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے ایپی گاؤں سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کی بمباری کے دوران وہ چوٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق دن کا وقت تھا، آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے کہ اچانک جہازوں نے بمباری شروع کردی اور وہ دوڑے تو کسی چیز میں پاؤں پھنس گیا اور وہ منھ کے بل گرگئے جس وجہ سے ان کا بایاں بازو ٹوٹ گیا۔
زیب خان کے بڑے بھائی بتاتے ہیں کہ گھروں کے اوپر سے جہازوں کی پروازیں تو پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن اس روز گاؤں سے باہر بمباری ہوئی جس وجہ سے ان کا بھائی خوف زدہ ہوگیا تھا۔
زیب خان پانچویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ زخمی ہونے کے بعد وہ چار روز اپنے گاؤں میں موجود رہے، بعد میں والدین کے ساتھ پیدل چل کر بنوں پہنچے ہیں۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ پہلے بمباری ہوئی، اس کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا جس کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ گھر چھوڑ جاؤ۔
زیب خان سمیت ہزاروں بچے پہلی بار اپنے علاقوں سے باہر آئے ہیں لیکن انھیں یہاں کوئی تفریح حاصل نہیں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھی ان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم نہیں جس کی وجہ سے گرمی اور دھوپ میں یہ بچے گھروں کے باہر کھیل کود کر وقت گزارتے ہیں۔
سپرا بی بی کھانسی اور بخار میں مبتلا اپنی ایک سالہ نواسی کے لیے پریشان نظر آتی ہیں جو طیاروں کی مبینہ شیلنگ کی وجہ سے زخمی ہوئی ہے۔ اس بچی کے چہرے پر زخم کے نشانات ہیں جو اس کی نانی کے مطابق شیلنگ کے ذرات لگنے سے ہوئے ہیں۔
بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں جس کی وجہ سے ان کی رجسٹریشن نہیں کی گئی۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر بچی کا علاج کرائیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ زخم خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

شمالی وزیرستان سے آنے والے بچوں کو اس وقت اگر کوئی تحفہ یا خاص چیز ملی ہے تو وہ ہے پولیو کے قطرے جو سید گئی کے مقام پر ہر بچے کو پلائے گئے تھے۔
باسکو سکول میں موجود عیسائی خاندانوں کے بچے دیگر متاثرین کے مقابلے میں زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ سکول کے کمرے بھی بڑے ہیں اور چار دیواری کے اندر کھیلنے کی جگہ بھی دستیاب ہے۔
نو سالہ شیزا سے میں نے پوچھا کہ وہ میران شاہ سے یہاں کیوں آئے؟ تو اس نے انتہائی رازداری کے انداز میں بتایا: ’انکل وہاں حالات بہت خراب ہیں اور بہت بڑی گنیں چلتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہاں بہت گرمی ہے، وہاں اتنی گرمی نہیں تھی اور بجلی بھی نہیں جاتی تھی۔‘
چودہ سالہ سارہ سے جب ملاقات ہوئی تو وہ ہپستال سے چہرے کی دوائی لے کر آئی تھی۔ ان کا تعلق عیسائی برداری سے ہے لیکن انھوں نے مقامی مسلم خواتین کی طرح برقع اوڑھ رکھا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہ سفید نہیں کالا تھا۔
سارہ نے بتایا کہ وہ میران شاہ سے پیدل آئے ہیں۔ سخت گرمی اور دھول کی وجہ سے برقعے میں گرمی لگنے سے ان کا چہرہ جھلس گیا ہے۔ اب ڈاکٹر نے کچھ لوشن اور ٹیوبیں دی ہیں۔
ماضی میں سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ بچوں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں خوراک، تعلیم اور تفریح کا انتظام کرتی تھیں۔ ان پانچ لاکھ متاثرین میں اکثریت بچوں کی ہے، لیکن ان کے لیے کہیں کوئی انتظام نظر نہیں آتا۔ حکومت کی ساری توانائی بس راشن کی تقسیم تک محدود ہے۔







