’اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس بنائی جائے‘

عدالت نے یہ از خود نوٹس پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات پر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنعدالت نے یہ از خود نوٹس پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات پر لیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پولیس فورس تیار کی جائے۔

سپریم کورٹ نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق از خود نوٹس پر فیصلہ سُناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی کونسل بھی تشکیل دے جو پاکستان کے آئین میں اقلیتوں سے متعلق دیے گئے حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

اس کونسل کو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے تجاویز دینے کا بھی اختیار ہوگا۔

عدالت نے یہ از خود نوٹس پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے خودکش حملوں کے علاوہ چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے کو دھمکیاں ملنے کے واقعات پر لیا تھا۔

چترال میں کیلاش اور اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو دھمکیاں دی جارہی تھیں کہ وہ اسلام قبول کریں ورنہ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس از خود نوٹس سے متعلق دیے گئے فیصلے میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی بھگا کر لے جانے اور اُنھیں اسلام قبول کروانے کا بھی دکر کیا گیا ہے۔ اس نوٹس کی سماعت کے دوران ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا تاہم نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا عمل جلد شروع کردیا جائے گا۔

نادرا حکام کے مطابق ہندوں کی شادیوں کی رجسٹریشن کا عمل اب شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہندو برادری کو اکثر مختلف سماجی حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ سندھ میں ہندو برادری کو اکثر مختلف سماجی حوالے سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے

فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا اور اس ضمن میں مقدمات تو درج ہوئے لیکن کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسے افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سوشل میڈیا پر اقلیتوں یا مذہب کے بارے میں نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسلام کے مطابق کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے رنگ پر کوئی فوقیت نہیں ہے اور اسلام میں تمام انسان برابر ہیں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس از خود نوٹس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبوں میں نوکریوں کے حوالے سے اقلیتوں کے کوٹے پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائیں۔

پشاور میں سکھوں کا گردوارہ جہاں بچوں امتحانات بھی ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکھوں کا گردوارہ جہاں بچوں امتحانات بھی ہوتے ہیں

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت ملک میں مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تعلیمی نصاب میں ایسی چیزیں شامل کرے جن سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس سال اپریل میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے 2014 کی رپورٹ میں کہا ہے: ’بین الاقوامی میڈیا کی زیادہ توجہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ حکومتی تصادم کی جانب ہے۔ اور اس وجہ سے پاکستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو لاحق خطرات پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔‘

پشاور میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ’طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی پاکستان میں اہلِ تشیع اور بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک لیٹیمر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد بڑا مسئلہ ہے اور ان دو ممالک میں حکومتیں اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر تھا جبکہ 2012 میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا۔