ایم کیو ایم کی زخمی رکنِ قومی اسمبلی انتقال کر گئیں

،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قریب مریدکے قصبے میں بدھ کو فائرنگ سے زخمی ہونے والی متحدہ قومی موومنٹ کی رکنِ قومی اسمبلی طاہرہ آصف زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئی ہیں۔
پولیس نے اس واقعے کو ڈکیتی کی واردات جبکہ ایم کیو ایم نے قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔
طاہرہ آصف کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ شیخ زید ہپستال میں زیر علاج تھیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما قمر منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زخموں سے جانبر نہیں ہو سکیں اور جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پونے ایک بجے کے قریب انتقال کر گئیں۔
قمر منصور کے مطابق طاہرہ آصف کی زندگی کو خطرہ تھا اور انھیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اس بارے میں انھوں نے تین بار تحریری طور پر پنجاب حکومت کو آگاہ کیا تھا لیکن انھیں سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایک وفد پہلے ہی لاہور میں موجود ہے۔
قمر منصور کے مطابق اس کا فیصلہ طاہرہ آصف کا خاندان کرے گا کہ ان کی تدفین کب اور کہاں ہوگی۔ ایم کیو ایم کی جانب سے پورے پاکستان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے لاہور میں خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک مرتبہ پھر پنجاب کے عوام میں ایم کیو ایم کی مقبولیت کے بڑھتے ہوئے پیغام سے کچھ قوتیں خوفزدہ ہوگئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ دہاڑے طاہرہ آصف پر دہشت گردوں کی فائرنگ پنجاب میں الطاف حسین کے نظریۂ حق پرستی کو دبانے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ بحیثیت رکنِ قومی اسمبلی یہ طاہرہ آصف کا حق تھا کہ حکومت ان کے خدشات کا فی الفور نوٹس لے کر انھیں موثر سکیورٹی فراہم کرتی، لیکن یہ کام نہیں کیا گیا۔
انھوں نے مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو ڈکیتی یا چوری کا نتیجہ قرار دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے وقت طاہرہ آصف کے ہمراہ ان کی بیٹی بھی موجود تھیں اور حملہ آوروں نے طاہرہ آصف کی شناخت کر کے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی، لیکن ان سے یا ان کی بیٹی سے موبائل فون، زیورات یا نقدی سمیت کوئی بھی قیمتی سامان نہیں چھینا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ صرف طاہرہ آصف ہی تھیں۔







