آرمی چیف کی افغان سفیر سے ملاقات

،تصویر کا ذریعہispr
پاکستان میں متعین افغان سفیر نےافواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور شمالی وزیرستان سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق افغان سفیر اور فوج کے سپہ سالار کے درمیان یہ ملاقات بدھ کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی۔
ملاقات میں شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیر غور آئے جن میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کا معاملہ بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب 15 جون سے جاری ہے جس میں فوج کے دعوے کے مطابق 200 سے زائد شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک دن پہلےافغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے پیشِ نظر پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایک دن پہلے منگل کو صوبہ خیبر پختون خوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں حالیہ آپریشن کے حوالے سے پڑوسی ملک افغانستان سے بھی رابطے کیے گئے ہیں اور ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ بھاگ جانے والے شدت پسندوں کا افغانستان میں خیر مقدم کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
گذشتہ ماہ افغانستان، پاکستان کے فوجی سربراہان اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر کے درمیان کابل میں سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے۔ جن میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں بدامنی اور افغان صوبے کنڑ میں مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے راکٹ حملوں پر بات چیت کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلو میٹر طویل سرحد ہے جس کی اب تک واضح نشاندہی اور حد بندی نہیں کی جا سکی ہے۔
قبائلی علاقے میں پاکستان افغان سرحد پر شدت پسندوں کی آمد و رفت دونوں ممالک میں سکیورٹی حکام کے لیے اہم مسئلہ رہی ہے اور ماضی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کا دعویٰ رہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے والی تحریکِ طالبان پاکستان کو افغان صوبے کنڑ میں پناہ گاہیں حاصل ہیں جبکہ افغان حکام کئی بار پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے افغانستان میں طالبان عناصر کی پشت پناہی کا الزام لگا چکے ہیں۔







