مذاکرات کی ناکامی کی آخری قسط کراچی ایئرپورٹ حملہ تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, شجاع ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لگ بھگ چار سال قبل جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستانی ریاست کے مختلف ادارے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

یہ کارروائیاں کبھی کسی فوجی افسر کی ہلاکت کا جواب میں ہوتیں تو کبھی کسی عوامی مقام پر حملے کا بدلہ۔ ان سب کارروائیوں میں واضح پالیسی یا ہم آہنگی کم ہی نظر آتی تھی۔

کوئی ’گڈ طالبان، بیڈ طالبان‘ کا ڈھنڈورا پیٹتا تو کوئی فاٹا کے قبائلی عمائدین کو پالیسی میں شریک کرنے کی باتیں کرتا۔

ماضی کے فوجی آپریشن

2001-02 جنوبی وزیرستان میں آپریشن المیزان

2007 باجوڑ میں آپریشن شیر دل

2008 جنوبی وزیرستان میں آپریشن زلزلہ

2008 ملاکنڈ ڈویژن اور سوات میں آپریشن راہِ حق

2009 ملاکنڈ ڈویژن اور سوات میں آپریشن راہِ راست

2010 جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات

ان آپریشنوں میں متاثرہ علاقوں میں حکومتی عمل داری قائم کرنے کے حوالے سے 2009 میں مالاکنڈ ڈویژن میں کیا گیا آپریشن راہِ راست کامیاب ترین تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیش سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ 2009 کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ کے مطابق 2008 میں 313 کے مقابلے میں 2009 میں سکیورٹی فورسز نے 596 آپریشنل حملے کیے اور اس سال میں 12866 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔ ان میں 75 القاعدہ کے اراکین اور 9736 مقامی طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے اراکین شامل تھے۔

اگرچہ پاکستانی ریاست کئی بار دہشتگردوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ساتھ محدود علاقوں کے لیے امن معاہدے کرتی رہی ہے، لیکن پہلی بار وفاقی حکومت نے براہِ راست تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی اپنائی۔

اس حوالے سے متعدد کُل جماعتی کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں جن میں سے آخری 9 ستمبر 2013 کو ہوئی۔ ان کانفرنسوں میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ملک میں قیامِ امن کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کرے۔

آئندہ کئی ماہ تک مذاکرات کی آنکھ مچولی چلتی رہی۔ کمیٹیاں بنیں، کمیٹیوں پر سوال اٹھے، جیمز بانڈ کی فلموں کی طرح کے خفیہ مقامات پر کمیٹیاں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ملنے گئیں۔ یہاں تک کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تو طالبان کا دفتر کھولنے تک کی تجویز پیش کر دی۔ امریکہ نے بھی ڈرون حملے روکنے کی حامی بھر دی۔

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے رہے کہ حکومت ریاستی خود مختاری میں شراکت کے علاوہ ان دہشتگردوں کو دے کیا سکتی ہے؟ قیدیوں کا تبادلہ؟ علاقے میں نقصانات کے عوض معاوضہ؟

دوسری جانب ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت تحریکِ انصاف سمیت عوام کا ایک بڑا حصہ مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی حمایت کرتا رہا۔

ادھر طالبان کے گروہوں کے درمیان لڑائیاں بھی شروع ہونے لگیں۔ کوئی مذاکرات کرنا چاہتا تھا، تو کوئی لڑائی۔ کبھی مذاکرات پر اتفاق تو کبھی ان کے انداز پر اعتراض تھا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ان لڑائیوں کی حقیقی وجہ تنظیم میں داخلی اثر و رسوخ کی جنگ تھی۔

عوام میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ حکومت اس بارے میں سنجیدہ تھی ہی نہیں اور صرف موسمِ سرما پرامن طریقے سے گزارنا چاہتی تھی کیونکہ اس موسم میں وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں فوجی آپریشن مشکل ہوتا ہے۔ ادھر کچھ لوگ کہتے رہے کہ طالبان پاکستان کے لوگوں کو مذاکرات میں الجھا کر اپنے وسائل میں اضافہ کر رہے تھے۔

آخرکار مذاکرات ناکام ہوگئے۔ اور اس ناکامی کی آخری قسط شاید کراچی ہوائی اڈے پر گذشتہ ہفتے دس شدت پسندوں کا حملہ تھی۔