شمالی وزیرستان: فوج کے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملے جاری

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف جامع فوجی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف جامع فوجی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ شب کے ٹارگٹڈ فضائی حملوں کے نتیجے میں دہشتگردوں کے آٹھ ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 105 ہوگئی ہے

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر ازبک جنگجو ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس وقت شمالی وزیرستان ایجنسی سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے فوج تعینات کر کے دیگر ایجنسیوں اور قبائلی علاقوں سے رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایجنسی کے اندر فوج نے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ایجنسی سے مطابق مقامی آبادی کےمنظم اور باوقار انخلا کے لیے مختص مقامات کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی انتظامیہ اور ڈزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بےگھر ہونے والے افراد کے لیے نقل و حرکت کے انتظامات کر رکھے ہیں۔

سویلین انتظامیہ کے اعلانات کے مطابق مقامات پر بےگھر ہونے والے افراد کے لیے اندارج کے پوائنٹ بنا دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جو جنگجو ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں اور تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہتھیار ڈالنے کے پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے فضائی نگرانی کے پلیٹ فارم کے ذریعے نگرانی کر رہے ہیں۔

افغان سکیورٹی فورمز یعنی افغان نیشنل آرمی اور افغان بارڈر پولیس سے بھی دوسری جانب سرحد بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ دہشت گرد سرحد پار فرار نہ ہو سکیں۔ انھیں نورستان صوبے میں کنڑ میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔