تیراہ میں فضائی بمباری، ’25 شدت پسند ہلاک‘

آئی ایس پی آر کے مطابق فضائی بمباری میں شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کے مطابق فضائی بمباری میں شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا

پاکستان کی فوج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریب وادیِ تیراہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں ابتدائی معلومات کے مطابق 25 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک موبائل ایس ایم ایس پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں نے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری کی۔

<link type="page"><caption> طالبان کا حکومت کے خلاف جوابی کارروائیاں کرنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140605_ttp_again_declares_war_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پانچ گھنٹوں کا آپریشن، ’دس دہشت گردوں سمیت 23 ہلاک‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/06/140608_karachi_airport_attack_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

آئی ایس پی آر کے مطابق فضائی بمباری میں شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ فضائی کارروائی کے دوران اسلحے کے بھاری ذخیرے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فی الحال یہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ یہ بمباری کس وقت کی گئی اور اس میں شدت پسندوں کے کس گروپ کو ہدف بنایا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ فضائی کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب صرف ایک روز قبل اتوار کی رات کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی اڈے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

ذرائع ابلاغ میں اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 تک بتائی جاتی ہے۔

کراچی کے ہوائی اڈے کو اتوار کی رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد پیر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

ملک کی تاریخ میں یہ کسی بھی ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کی طرف سے سب سے بڑا حملہ سمجھا جاتا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان فضل اللہ گروپ کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کراچی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ کالعدم تنظیم کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔

ادھر حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطوں یا کسی پیش رفت کی طویل عرصے سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ بات چیت کس وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔

گذشتہ ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک سینیئر رہنما نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب اب وہ طاقت کے استعمال کی صورت میں دیں گے۔

دوسری جانب حکومت بھی واضح کر چکی ہے کہ اگر شدت پسندوں کی جانب سے سرکاری اہداف پر حملے ہوں گے اور ان کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملیں گے تو وہ بھی محدود کارروائیاں جاری رکھے گی۔

سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کہہ چکی ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے اور اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔