بلوچستان: دو دھماکوں میں تین افراد زخمی

انتظامی طور پر گوادر بلوچستان کے ایران سے متصل مکران ڈویژن کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانتظامی طور پر گوادر بلوچستان کے ایران سے متصل مکران ڈویژن کا حصہ ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دو دھماکوں میں رکن قومی اسمبلی کے بیٹے سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے شہر پسنی کے پولیس اہلکار نے کے مطابق ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی عیسیٰ نوری کے بیٹے وقار نوری زخمی ہو گئے۔

پسنی پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وقار نوری اپنے دو محافظوں کے ہمراہ دفتر سے گھر جارہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کے قریب ایک دھماکہ ہوا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں وقار نوری زخمی ہوئے۔ ان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

گوادر کا شمار بلوچستان کے انتہائی اہم اضلاع میں ہوتا ہے۔ انتظامی طور پر گوادر بلوچستان کے ایران سے متصل مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ مکران ڈویژن کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

ایک اور واقعے میں بلوچستان کے ایران سے متصل علاقے ضلع چاغی میں راشن لے جانے والی ٹرین کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کانشانہ بنایا گیا۔

چاغی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ضلع کے علاقے پیشوک میں نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد کو اس وقت اڑایا گیا جب کوئٹہ سے تفتان جانے والی راشن ٹرین اس علاقے سے گزر رہی تھی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹرین کی آخری بوگی دھماکے کی زد میں آگئی جس کے باعث اس میں سوار دو ا فراد زخمی ہوگئے۔