پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں احتجاج، چھ پولیس افسران معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعے کو سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا سکیورٹی حصار توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر احتجاج کرنے پر حکام نے چھ پولیس افسران کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد کی ضلع انتظامیہ نے ایڈشنیل ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو پارلیمنٹ ہاؤس کے واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
اس واقعے کے حوالے سے انسپیکٹر سے لے کر ایس پی رینک تک کے پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ ان میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سیکورٹی انچار ایس پی جبیب اللہ نیازی، پارلیمنٹ سکیورٹی کے ڈی ایس پی فدا حسین ستی، ڈی ایس پی سیکریٹریٹ سرکل، ایس ایچ او سیکریٹریٹ، ایس ایچ او بارہ کہو شامل ہیں۔
پولیس نے احتجاج اور توڑ پوڑ کرنے کے والے سکھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔
جمعے کو اسلام آباد میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے صوبہ سندھ میں اپنی مذہبی کتاب کی بےحرمتی پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔
یہ مظاہرین سخت رکاوٹوں کے باوجود پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخل ہوئے اور وہاں احتجاج کرتے رہے تاہم حکومتی یقین دہانی پر تقریباً پانچ گھنٹے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔
اسلام آباد میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے کہ جب مظاہرین تمام سکیورٹی حصار توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کی بلڈنگ کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہ
تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز سینیٹ کا اجلاس جاری تھا کہ اچانک سکھ برادی سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کی ایک بڑی تعداد سخت سکیورٹی کے باوجود عین اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخل ہوگئی جب ملک میں حکومت، فوج ، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری تناؤ پر بحث ہو رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد آفتاب احمد چیمہ نے بتایا تھا کہ مظاہرین راستے میں موجود رکاوٹیں اور گیٹ نمبر ایک کو توڑتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئے جبکہ پولیس نے مظاہرین کو کئی بار روکنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکی۔
پولیس نے سکھ مظاہرین پر لاٹھی چارج یا آنسو گیس کا استعمال کرنے سےگریز کیا اور پولیس افسر کے مطابق اگر مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جاتا تو پاکستان کےخلاف پروپیگنڈا شروع ہو جاتا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی۔







