انتخابات کا ایک سال: احتجاجی ریلیاں مگر الگ الگ

اسلام آباد کے ایوانوں تک کا سفر پنجاب کی ہی راہداریوں سے ہوکر پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز بھی یہی راستہ اختیار کرچکی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے ایوانوں تک کا سفر پنجاب کی ہی راہداریوں سے ہوکر پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز بھی یہی راستہ اختیار کرچکی ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

تخت لاہور پر سیاسی گرفت رکھنے کی خواہش مند اور ماضی میں اثر رسوخ رکھنے والی جماعتیں اس روز اپنی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر رہی ہیں جب عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف

لاہور سے ہی تحریک انصاف نے اپنی سونامی سیریز کا آغاز کیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلاہور سے ہی تحریک انصاف نے اپنی سونامی سیریز کا آغاز کیا تھا

پاکستان تحریک انصاف اس احتجاج میں سب سے آگے ہے جو قافلوں کی صورت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جانے کی خواہش مند ہے۔ اسلام آباد میں جماعت کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

لاہور سے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر اعجاز چوہدری کی سربراہی میں یہ قافلہ روانہ ہوگا جس میں گجرانوالا، گجرات اور جہلم سے بھی قافلے شامل ہوں گے۔

لاہور سے ہی تحریک انصاف نے اپنی سونامی سیریز کا آغاز کیا تھا۔ عمران خان جن چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق چاہتے ہیں ان میں سے دو لاہور کے ہیں، جن پر وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کامیاب قرار دیے گئے تھے۔

اس وقت تحریک انصاف کے پاس لاہور کی قومی اسمبلی کی تیرہ نشستوں میں سے ایک اور صوبائی اسمبلی کی پچیس میں سے تین نشستیں ہیں۔ ووٹنگ سے پہلے کے عوامی جوش و خروش اور انتخابی مہم کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ قلیل تعداد تحریک انصاف کے لیے قابل یقین اور قابل قبول نہیں۔

پاکستان عوامی تحریک

عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے بھی اپنے سیاسی سفر کا آغاز لاہور سے ہی کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے بھی اپنے سیاسی سفر کا آغاز لاہور سے ہی کیا تھا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری لاہور میں ریلی کا انعقاد کریں گے جس کا آغاز ناصر باغ سے اور اختتام پنجاب اسمبلی پر ہوگا۔ اختتام پر ویڈیو لنک کے ذریعے طاہر القادری شرکا سے خطاب کریں گے۔

عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے بھی اپنے سیاسی سفر کا آغاز لاہور سے ہی کیا تھا۔ اسلام آباد کے مشہور دھرنے کے بعد انہوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا تھا جب کہ اس سے قبل وہ جنرل پرویز مشرف کی زیر نگرانی دو ہزار دو کے انتخابات میں لاہور کی ہی ایک نشست سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں مبینہ طور پر بدظن ہوکر مستعفی ہوگئے اور کینیڈا میں رہائش اختیار کر لی۔

جماعت اسلامی

،تصویر کا ذریعہ

خیبرپختون خوا میں تحریک انصاف کی سب سے بڑی اتحادی جماعت جماعت اسلامی نے عمران خان کے احتجاج کی حمایت تو نہیں کی، لیکن اسی صوبے سے تعلق رکھنے والے نو منتخب امیر سراج الحق اتوار کو ہی لاہور پہنچ رہے ہیں۔ لاہور میں ان کے استقبال کے نام پر کرکٹ گراؤنڈ پر جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

لاہور میں جماعت اسلامی ایک بڑے عرصے تک بڑی پارلیمانی جماعت رہی۔ دو ہزار دو کے انتخابات میں اس نے آخری بار یہاں سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جن کی تعداد تین تھی۔ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کا جماعت نے بائیکاٹ کیا اور گزشتہ انتخابات میں وہ لاہور سے قومی یا صوبائی کی کسی نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ قاف

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں مسلم لیگ ق نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں مسلم لیگ ق نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے

پاکستان مسلم لیگ قاف نے بھی اس احتجاجی مہم میں چھلانگ لگا دی ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ تاہم یہ حمایت افرادی قوت بھی فراہم کرے گی یا نہیں یہ واضح نہیں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے قافلے چوہدری برادرن کے علاقے گجرات سے ہی گذریں گے۔

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں مسلم لیگ ق نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے۔ عوامی تحریک کی قیادت سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گرینڈ اپوزیشن اتحاد بھی بن سکتا ہے۔

احتجاجی ماحول اور حکومت

پنجاب حکومت نے احتجاج کے دن ہائی الرٹ جاری کیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ اور ہپستالوں میں ہنگامی حالات نافذ کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپنجاب حکومت نے احتجاج کے دن ہائی الرٹ جاری کیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ اور ہپستالوں میں ہنگامی حالات نافذ کیے گئے ہیں

اس احتجاجی ماحول کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز بھی میڈیا مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑے اخبارات کے پہلے اور آخری صفحات پر حکومت کی کامیابیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تشہیر کی گئی ہے جب کہ ٹی وی چینلز پر بھی اندھیرے دور کرنے کی تشہیر جاری ہے۔

احتجاج کی شدت کم کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے کچھ انتظامی اقدامات بھی کیے ہیں۔ سراپا احتجاج جماعتوں کے پاس حکمران کے خلاف انتخابی دھاندلیوں کی چارج شیٹ کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہے لیکن فوری طور پر لاہور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول سے کم کردی گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے احتجاج کے دن ہائی الرٹ جاری کیا ہے جب کہ پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ اور ہپستالوں میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔

چند روز پہلے محکمہ داخلہ نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے بیٹے کو ایک خط کے ذریعے تخریب کاری کی خدشات سے آگاہ کیا لیکن اس کے باوجود تنظیم اپنے اعلان پر قائم ہے۔

اسلام آباد کے ایوانوں تک کا سفر پنجاب کی راہداریوں سے ہوکر ہی تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز بھی یہی راستہ اختیار کرچکی ہیں۔