بندوق کے ذریعے سے تبدیلی لانا جائز نہیں: سراج الحق

سراج الحق کے بقول جہاد کا معانی بہت وسیع ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسراج الحق کے بقول جہاد کا معانی بہت وسیع ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، پاکستان

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد کے ذریعے سے شریعت یا اسلامی نظام کا نفاذ جائز نہیں کیونکہ جس ملک میں جمہوریت ہو اور جہاں ووٹ کے ذریعے سے اقتدار تک پہنچا جاسکتا ہو وہاں بندوق کے ذریعے سے تبدیلی لانا جائز نہیں ۔

پشاور میں بی بی سی اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے اندر دعوت و تبلیغ کا راستہ کھلا ہے ، جلسے جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں اور ووٹ و انتخاب کے ذریعے سے کوئی بھی شخص اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے لہذا ایسی صورت میں مسلح تحریک کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کسی زمانے میں جماعت اسلامی بھی مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی تھی لیکن اب یہ پالیسی ترک کردی ہے تو اس پر سراج الحق نے کہا کہ روس کے خلاف افغان ’جہاد‘ میں صرف ان کی جماعت ہی نے نہیں بلکہ تمام پاکستانی قوم نے مشترکہ طورپر اس کی حمایت کی تھی۔

ان کے بقول ’جہاد کا لفظ ایک سمندر ہے جس کے کئی معنی ہیں، غربت، جہالت اور مہنگائی کے خلاف لڑنا بھی جہاد ہے ، لہذا ہر مسلمان کو مجاہد ہونا چاہیے اور یہ اللہ کا حکم ہے کہ جہاد کرو تو کیا ہم کسی کے کہنے پر اللہ کا حکم چھوڑ دیں گے، کبھی نہیں ۔‘

سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے علاوہ اور کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا اور یہ سب کچھ آئین کا بھی حصہ ہے جس کےلیے ہمارے آباو اجداد نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش اس لیے پاکستان سے جدا ہوا کیونکہ وہاں کے عوام کو ان کے حقوق نہیں دیئے گئے اور آج بلوچستان اور .کراچی بھی احساس محرومی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں بھی حالات خراب ہیں لیکن یہ ایسی صورت میں بہتر ہوسکتے ہیں جب ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوگا۔

ان سے سوال کیا گیا کہ جب بھی پشتون خطے میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو کسی پشتون رہنما کو جماعت اسلامی کا امیر مقرر کیا جاتا ہے، افغانستان پر حملہ ہوا تو مرحوم قاضی حسین احمد امیر تھے اور اب جب کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کا انخلا ہورہا ہے تو آپ کو امیر بنایا گیا، اس پر سراج الحق نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’ اچھا نہیں کہ قاضی صاحب کے دور میں روس نے شکست کھائی اور اب میرے دور میں امریکہ افغانستان سے مایوس ہوکر واپس جائے تو خطے کے تمام ممالک بشمول پاکستان بھی سکھ کا سانس لے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل کسی صورت میں ختم نہیں ہوناچاہیے کیونکہ اس میں سب کا فائدہ ہے۔

’ اگر خدا ناخواستہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو حکومت کو پھر سے تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلانا چاہیے کیونکہ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا معاملہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگ وجدل کی وجہ سے ملک میں بہت خون بہا ہے اور اب مزید قوم اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

جماعت اسلامی کے امیر سے پوچھا گیا کہ ملک میں اقلیتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملے ہو رہے ہیں لیکن مذہبی جماعتوں نے ان ہلاکتوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تو اس کے جواب انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ صرف بے گناہ افراد کے قتل کی بھرپور انداز میں مذمت کرتی ہے بلکہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے ایسے واقعات میں ملوث افراد کو فوری طورپر گرفتار کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’ اقلیتوں کو اقلیتوں کے نام سے پکارنا ہی غلط ہے کیونکہ اس لفظ سے احساس محرومی اور کمتری محسوس ہوتی ہے ، میں ان غیر مسلموں کو پاکستانی کمیونٹی کہتا ہوں اور ان کی جان و مال کا تحفظ کرنا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے اس پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔‘