’صحافیوں کے خلاف جرائم، پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا فیصلہ‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ملک میں صحافیوں کے خلاف جرائم کی سماعت کے لیے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا پالیسی فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ حکومت تو صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی حد تک جانے کو تیار تھی۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق صحافیوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے وزارتِ قانون کی ویب سائٹ پر اُن وکلا کے نام نہیں ہیں جنھیں ایسے مقدمات کی پیروی کے لیے پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ایک مقتدر ادارہ ہے اور حکومت پاکستان اس کی رپورٹ پر عمل کرے گی۔
انھوں نے کہا:’ایمنسٹی انٹرنیشنل کا جو لفظ شائع ہوتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے اور اس پر عالمی سطح پر یقین کیا جاتا ہے۔‘
پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں جب کو منفی رپورٹ یا خبر سامنے آتی ہے تو اس پر پاکستانی ہونے کے ناطے دکھ اور تکلیف ہوتی ہے اور اس سے صرفِ نظر کرنے کے بجائے اصلاح احوال کی کوشش کی جاتی ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں ناخشگوار واقعات پیش آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اطلاعات و نشریات نے ولی خان بابر کے مقدمے کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے اس مقدمے میں اپنی ذمہ داری نبھائی اور قاتلوں کو سزا دلوائی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری عمل ارتکا پذیر ہے اور ملک کی 65 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک جمہوری حکومت نے پانچ سال مکمل کیے اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی آئی۔ انھوں نے ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل سے قانون مضبوط ہو گا اور ہر شخص کو قانون کا تابے ہونا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس ارتکائی عمل کو تیزی سے اپنی منزلیں طے کرنی ہوں گی اور اس قانون کا بالادستی کے لیے تیزی سے کام کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جہاں صحافی بغیر کسی خوف و خطر کے حقائق کو سامنے لانے کا اپنا فریضہ انجام دے سکیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافی قتل کر دیے جانے سمیت مختلف نوعیت کے خطرات میں زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ خطرہ انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں اور طالبان جیسے مسلح گروہوں سمیت ہر طرف سے ہے۔
پیروی کے لیے پراسیکیوٹر
بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق صحافیوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے وزارتِ قانون کی ویب سائٹ پر اُن وکلا کے نام نہیں ہیں جنھیں ایسے مقدمات کی پیروی کے لیے پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔
وزارتِ قانون کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید جن کے پاس وزارت قانون کا اضافی چارج بھی ہے، کی طرف سے ایسے کسی بھی حکمنامے کا علم نہیں ہے۔
پاکستان کے اٹارنی جنرل آفس میں بھی ابھی تک ایسی کوئی فہرست نہیں پہنچائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ان ان وکیلوں کو صحافیوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی پیروی کے لیے پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کے لیے پراسیکیوٹر کی تعیناتی تو ایک طرف دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے اپنے وکیل کے ذریعے ایک اور درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے کہ صحافی حامد میر اور نجم سیٹھی کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے سال 2012 میں درخواست دائر کی تھی اُس کی سماعت جلد از جلد کی جائے۔







