نیٹو کنٹینروں پر حملہ، 2 زخمی، باڑہ میں سرچ آپریشن

دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے بعد حملہ آور موقعے سے فرار ہو گئے
،تصویر کا کیپشندونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے بعد حملہ آور موقعے سے فرار ہو گئے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل کرنے والے دو کنٹینروں پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے جس میں دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر باڑہ میں شاکس کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے آج صبح سے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق آج صبح خیبر ایجنسی میں جمرود بائی پاس پر دو نیٹو کنٹینروں پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔ اس حملے میں ایک ڈرائیور اور ایک کنڈیکٹر زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے میں دو مزید گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ حملے کے بعد موقعے پر موجود مقامی پولیس (خاصہ دار) فورس نے جوابی کارروائی کی ہے جس سے حملہ آور فرار ہو گئے ہیں۔

دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے بعد حملہ آور موقعے سے فرار ہو گئے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حملے کے بعد گاڑیوں کے ٹکرانے سے چار افراد کو چوٹیں آئی ہیں۔

اس کے علاوہ جمرود کے ہی علاقے میں سور کمر کے مقام پر دو گھنٹوں میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔ دونوں دھماکے سڑک کے کنارے نصب بارودی مواد سے کیے گئے ہیں لیکن ان میں کسی قسم کے کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ادھر آج صبح سویرے سکیورٹی فورسز اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ نے باڑہ کے علاقے شاہ کس میں سرچ آپریشن کیا ہے جہاں سے ایک درجن کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ شاہ کس کا علاقہ پشاور کے قریب واقع ہے ۔

یاد رہے گذشتہ روز شدت پسند تنظیم لشکر اسلام نے باڑہ کے علاقے سپاہ میں آباد افغان پناہ گزینوں کے ایک قبیلے سے کہا تھا کہ وہ علاقہ خالی کر دیں جس کے بعد علاقے سے افغانیوں نے نقل مکانی شروع کر دی تھی۔

خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں تین روز قبل سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے جن میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں اسلام آباد سبزی منڈی پر حملہ کرنے والے افراد شامل تھے۔

خیبر ایجنسی میں کچھ عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ چند سالوں میں خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنز کیے گئے جس سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

اس وقت بھی نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں سب سے زیادہ متاثرہ افراد کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے جبکہ بیشتر متاثرہ افراد اپنے طور پر یا رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔