’پیمرا کو ریفرنس بھیجنے سے واضح ہے کہ حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ فوج اور دفاعی اداروں کے وقار کا تحفظ کرنا حکومت وقت کی آئینی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
جمعے کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ میڈیا میں فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر ہونے والی تنقید کے بعد پیمرا کو جو ریفرنس بھیجا گیا ہے اس کے بعد یہ ابہام ختم ہو جانا چاہیے کہ حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ صحافی حامد میر پر ہونے والے حملے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے جو اگلے ہفتے سے کام شروع کر دے گا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان ہے یہ کمیشن 21 روز میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا جس کے بعد اس سے عوام کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل کے خلاف دائر کی جانے والی وہ درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس چینل نے فوج کو بدنام کیا ہے لہذا اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کریں گے۔
یہ درخواست اسلام آباد کے ایک مقامی صحافی خوشنود علی خان کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔
اس درخواست میں وفاق اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، جیو کے مالک میر شکیل الرحمٰن، حامد میر، نجم سیٹھی، انصار عباسی، افتخار احمد کے علاوہ ایک اور نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کی اینکرپرسن عاصمہ شیرازی کو فریق بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ریاض محمد خان نے اس درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل حبیب وہاب الخیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا قوانین میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی ٹی وی چینل ملکی سالمیت اور فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتا۔
اُنھوں نے کہا جیو نیوز کے اینکرپرسن حامد میر پر حملے کے بعد جس طرح اس نجی ٹی وی چینل نے فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزامات عائد کیے اُس سے دنیا بھر میں خفیہ ادارے کی بدنامی ہوئی۔
حبیب وہاب الخیری کا کہنا تھا کہ جن اینکرپرسنز نے اس واقعے کے بعد فوج اور آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اُنھوں نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
عدالت نے اس درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعد ازاں اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔







