نصیر آباد: مسلح افراد کا حملہ، چار پولیس اہل کار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر سمیت چار اہل کار ہلاک ہوگئے۔
ڈیرہ مراد جمالی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کی تحصیل چھتر کے علاقے میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کے اہلکار ایک گاڑی میں معمول کی گشت پر تھے۔ جب یہ اہلکار سون واہ کے علاقے میں پہنچے تو وہاں ایک پل کے قریب پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے گاڑی پر اند ھا دھند فائرنگ کی ۔
فائرنگ کے نتیجے میں پولیس کے اے ایس آئی سمیت چاروں اہلکار ہلاک ہوئے۔ حملہ آور پولیس اہلکاروں کا اسلحہ اور گاڑی بھی لے گئے۔
شورش کا شکار بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے متصل ہونے کے باعث نصیر آباد میں بھی امن و امان کی صورتحال متاثر ہے۔
اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔
تنظیم کے ترجمان نے سیٹلائیٹ فون پر نامعلوم مقام سے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے اہلکاروں کو پہلے قابو کر لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ان کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا اور ان کی گاڑی کو نذر آتش کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی آرے کے ترجمان نے اس علاقے سے سیکورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار کو بھی اغوا کرنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے مغوی اہلکار سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
نصیر آباد میں اس واقعہ سے چند روز قبل ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں پولیس کے ایک ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار بھی زخمی ہوگئے تھے۔







