وزیراعظم کی سینیٹ میں شرکت اب قانونی تقاضا

مئی 2013 میں منتخب ہونے کے بعد سے اب تک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک مرتبہ بھی ایوانِ بالا کے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمئی 2013 میں منتخب ہونے کے بعد سے اب تک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک مرتبہ بھی ایوانِ بالا کے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا نے پیر کے روز قوانین میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ملک کے وزیراعظم پر لازمی ہوگا کہ وہ سینیٹ کے اجلاس کے دوران ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ ایوان کی کارروائی میں شریک ہوں۔

سینیٹ کی کارروائی کے قواعد و ضوابط ’رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ 2012‘ نامی قانون میں درج ہیں۔ ان قوانین کے تحت سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی کے اختتام پر آدھے گھنٹے کا وقت ممبران کی جانب سے قومی اہمیت کے سوالات کے لیے مختص کیا جاتا ہے جس میں صرف ایک گھنٹہ پیشگی اطلاع دینے کے بعد اراکین سوالات اٹھا سکتے ہیں۔اس مختص دورانیے کو ’زیرو آور‘ کہا جاتا ہے۔

پیر کے روز ہونے والی ترمیم کے تحت ملک کے وزیراعظم پر لازم ہوگا کہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ زیرو آور میں شریک ہوں۔

یاد رہے کہ مئی 2013 میں منتخب ہونے کے بعد سے اب تک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک مرتبہ بھی ایوانِ بالا کے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔

سینیٹ قوانین میں یہ ترمیم ایم کیو ایم کے رکن سینیٹر کرنل ریٹائرڈ سید طاہر حسین مشاہدی کی تجویز پر کی گئی۔ اس تجویز کی بیشتر اراکینِ سینیٹ نے حمایت کی، البتہ مسلم لیگ ن کے اراکین نے اس کی مخالفت کی۔

اس سے قبل سینیٹر جعفر اقبال کے اس بیان پر کہ وزیراعظم ملک کو درپیش کئی مسائل کو سلجھنے میں مصروف ہیں، حزبِ اختلاف کے اراکین نے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا۔ سینیٹر جعفر اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ایوان میں موجودگی ضروری نہیں ہے۔

تحفظِ پاکستان آرڈننس

پیر کی شام جب چیئرمین سینیٹ کی صدارت میں شروع ہوا تو ایوان میں حکومت کی جانب سے سینیٹ میں تحفظِ پاکستان آرڈیننس پیش نہ کرنے پر بھی شدید تنقید کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے نکتۂ اعتراض پر کھڑے ہو کر کہا کہ حکومت نے گذشتہ سیشن میں یقین دہانی کروائی تھی کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کوسینیٹ میں پیش کیا جائےگاجو تاحال یہاں نہیں لایاگیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف اس ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے بلکہ چیئرمین کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت موجودہ سیشن میں تحفظ پاکستان آرڈیننس نہیں لائی تو حزِب اختلاف کو احتجاج کا حق ہے۔

حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سنٹیر راجہ ظفرالحق نے ایوان کو بتایا کہ میری کوشش تھی کہ آرڈیننس کو گذشتہ اجلاس میں پیش کرتا لیکن سیشن مقررہ وقت سے ایک دو دن قبل ہی ختم ہوگیا تھا۔

چیئرمین سینیٹ نے بعد میں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے راجہ ظفرالحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منگل تک اس بارے میں رپورٹ پیش کریں بصورت دیگر متعلقہ کمیٹی سے رجوع کیا جائےگا۔

یاد رہے کہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے، تاہم ملک کی متعدد سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنان کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے قانون دان اسے کالا قانون قرار دے چکے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔